پیر، 28-ستمبر،2026
پیر 1448/04/17هـ (28-09-2026م)

دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے؟ مردوں اور خواتین کے لیے مقدار اور اہم احتیاطیں

28 ستمبر, 2026 11:13

اسلام آباد: پانی انسانی جسم کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے، لیکن روزانہ کتنی مقدار میں پانی یا دیگر سیال لینا چاہیے، اس کا کوئی ایک جواب ہر شخص پر لاگو نہیں ہوتا۔ جسمانی سرگرمی، موسم، عمر، صحت اور خوراک سمیت مختلف عوامل روزانہ سیال کی ضرورت کو متاثر کرتے ہیں۔

ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق صحت مند بالغ افراد کے لیے اوسط روزانہ مجموعی سیال کی ضرورت مردوں میں تقریباً 15.5 کپ اور خواتین میں 11.5 کپ بتائی جاتی ہے۔ تاہم اس مقدار میں صرف سادہ پانی شامل نہیں بلکہ چائے، دودھ، دیگر مشروبات اور پانی والی غذاؤں سے حاصل ہونے والا سیال بھی شامل ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مرد کو لازماً 3.7 لیٹر اور ہر خاتون کو 2.7 لیٹر سادہ پانی روزانہ پینا چاہیے۔ مجموعی مقدار میں خوراک اور دیگر مشروبات سے حاصل ہونے والا پانی بھی شامل ہوتا ہے، جبکہ ہر فرد کی حقیقی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔

پانی جسم کے لیے کیوں ضروری ہے؟

جسم کے تقریباً ہر اہم نظام کو مناسب مقدار میں سیال کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے، ہاضمے میں مدد دینے، جوڑوں اور بافتوں کو مناسب نمی فراہم کرنے اور جسم میں سیال و الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

پانی جسم سے فاضل مادوں کے اخراج اور خلیوں تک ضروری غذائی اجزا پہنچانے کے عمل میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ مناسب ہائیڈریشن نہ ہونے کی صورت میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔

پانی کی کمی دماغی کارکردگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے

پانی کی کمی کے اثرات صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہتے۔ ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق بعض تحقیق میں ہائیڈریشن کی کم سطح اور توجہ، یادداشت اور ذہنی پراسیسنگ سے متعلق کارکردگی کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے شواہد مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔

اسی لیے شدید گرمی، زیادہ پسینہ آنے یا طویل جسمانی سرگرمی کے دوران مناسب سیال لینا اہم ہوجاتا ہے۔

گرمی اور ورزش میں پانی کی ضرورت کیوں بڑھتی ہے؟

گرم موسم میں جسم پسینے کے ذریعے زیادہ سیال خارج کرتا ہے۔ اسی طرح ورزش، دوڑ یا سخت جسمانی محنت کے دوران بھی پانی کے اخراج میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

طویل دورانیے کی جسمانی سرگرمی میں صرف پانی ہی نہیں بلکہ پسینے کے ذریعے ضائع ہونے والے سوڈیم اور دیگر الیکٹرولائٹس کو بھی مدنظر رکھنا پڑ سکتا ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق میراتھن جیسی طویل سرگرمیوں کے دوران پانی کے ساتھ سوڈیم کے نقصان کو پورا کرنا بھی اہم ہوسکتا ہے۔

ہر شخص کے لیے پانی کی مقدار مختلف کیوں ہے؟

ایک صحت مند نوجوان، دفتر میں زیادہ وقت بیٹھنے والے شخص، سخت ورزش کرنے والے فرد اور شدید گرمی میں کام کرنے والے شخص کی پانی کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔

عمر بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بعض بزرگ افراد میں پیاس محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں پانی کی کمی کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

اسی طرح کچھ طبی حالات میں زیادہ پانی پینا مناسب نہیں ہوتا۔ گردے، دل یا جگر کی بعض بیماریوں میں ڈاکٹر سیال کی مقدار محدود کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پانی کی مقدار ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق طے کرنا ضروری ہے۔

کیا صرف پیاس لگنے پر پانی پینا کافی ہے؟

پیاس جسم کی جانب سے پانی کی ضرورت کا ایک اہم اشارہ ہے، لیکن شدید گرمی یا جسمانی سرگرمی کے دوران اس پر مکمل انحصار مناسب نہیں ہوسکتا۔ ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق پانی کی ضرورت ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے اور صحت مند افراد میں جسم کے قدرتی اشاروں پر توجہ دینا اہم ہے۔

پانی کی کمی کی عام علامات میں گہرے رنگ کا پیشاب، کمزوری، چکر آنا اور بعض صورتوں میں الجھن شامل ہوسکتی ہے۔

اس لیے روزمرہ زندگی میں مناسب مقدار میں سیال لینا، گرمی اور ورزش کے دوران ضرورت کے مطابق مقدار بڑھانا اور کسی مخصوص طبی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر طریقہ ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزانہ پانی پینے کے لیے سب کے لیے ایک ہی مقررہ مقدار کو لازمی اصول نہ سمجھا جائے۔ جسمانی ضروریات، موسم، سرگرمی اور صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائیڈریشن برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔