جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے کی تحقیقات، ایس ایس پی اور ایس ایچ او گارڈن قصوروار قرار

20 مئی, 2026 14:20

انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران وی آئی پی پروٹوکول اور موبائل فون فراہم کرنے کے اسکینڈل میں ضلعی پولیس سربراہ اور تھانہ گارڈن کے عملے کو قصوروار قرار دے کر سخت قانونی کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہے۔

انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران غیر قانونی طور پر وی آئی پی پروٹوکول فراہم کرنے کے سنگین معاملے پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی انکوائری مکمل کر لی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل ویسٹ عرفان بلوچ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے۔

تحقیقات کے دوران سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سٹی علی حسن اور سپرنٹنڈنٹ انوسٹی گیشن سٹی سمیت 17 اعلیٰ پولیس افسران اور ماتحت اہلکاروں کو شامل تفتیش کر کے ان کے باقاعدہ بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ضلعی سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس، تھانہ گارڈن کے اسٹیشن ہاؤس افسر اور سب انوسٹی گیشن افسر گارڈن اس مجرمانہ غفلت اور پروٹوکول فراہم کرنے کے براہ راست ذمہ دار پائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ پولیس نے پنجاب سے ملزمہ پنکی کا تمام کرمنل ریکارڈ مانگ لیا

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران نہ صرف پروٹوکول دیا گیا بلکہ اسے موبائل فون استعمال کرنے کی غیر قانونی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے گارڈن تھانے کا کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن یعنی سی سی ٹی وی کا پورا ریکارڈ ہی غائب کر دیا گیا تاکہ شواہد کو مٹایا جا سکے۔

کمیٹی نے تھانہ گارڈن کے اسٹیشن ہاؤس افسر حنیف سیال کے کردار کو انتہائی مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری طور پر سخت محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ باقاعدہ قانونی اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جبکہ ان کی مشکوک سرگرمیوں پر الگ سے ایک مزید انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب اس کیس میں معطل ہونے والی دونوں خواتین پولیس اہلکاروں کو کمیٹی نے بالکل بے قصور قرار دے کر کلیئر کر دیا ہے، کیونکہ وہ کسی ہائی پروفائل کیس کی سیکیورٹی کے لیے تربیت یافتہ ہی نہیں تھیں اور نہ ہی آپریشن پولیس کی جانب سے انہیں ملزمہ کے خطرناک پس منظر کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمہ کو اس طرح پروٹوکول فراہم کرنے سے محکمہ پولیس کی ساکھ عوامی سطح پر شدید خراب ہوئی ہے، مزید برآں گرفتاری کے بعد قانون کے مطابق ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ یعنی سی آر او بھی نہیں کرایا گیا اور آپریشن پولیس نے انوسٹی گیشن پولیس کو اس اہم گرفتاری سے اندھیرے میں رکھا، جس سے محکمے کی اندرونی کمزوریاں واضح ہوتی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔