جمعرات، 4-جون،2026
جمعرات 1447/12/18هـ (04-06-2026م)

وفاقی بجٹ میں تاخیر کی چار بڑی وجوہات سامنے آ گئیں، وزیر اعظم اور اتحادی نالاں

03 جون, 2026 15:29

وفاقی حکومت کے ذرائع نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی چار بڑی وجوہات کا انکشاف کیا ہے، جس کے باعث اتحادیوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی نالاں ہیں۔

وفاقی حکومت کے ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری تاحال تاخیر کا شکار ہے، جس پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ خود وزیر اعظم شہباز شریف بھی شدید نالاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس تاخیر کی چار بڑی وجوہات ہیں، جن میں سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نئے مالی سال کے ترقیاتی پلان اور بجٹ کے موجودہ خدوخال سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے ترقیاتی بجٹ، عوامی ریلیف اور ترقیاتی پلان پر فوری نظر ثانی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم سے صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کی اہم مشاورتی ملاقات

اس سلسلے میں وزیر اعظم کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس بھی ہوا ہے، کیونکہ وزیر اعظم اور وفادی کابینہ عوامی مشکلات اور عوامی دباؤ کے باعث شدید تذبذب کا شکار ہیں۔

دوسری بڑی وجہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تنظیم نو میں تبدیلی بنی ہے، جہاں حکومت فنانس بل کے ذریعے اس پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اس پروگرام کی فنڈنگ اور تنظیم نو کے حکومتی فیصلے پر شدید اعتراضات ہیں۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ کو نئے بجٹ میں عوامی ریلیف فراہم کرنے پر قائل کرنا چاہتی ہے اور وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو سخت ہدایت کی ہے کہ نئے بجٹ میں ہر صورت عوامی ریلیف کو مقدم رکھا جائے۔

چوتھی اور آخری وجہ وزیر اعظم اور کابینہ اراکین کی حالیہ دنوں میں مسلسل جاری رہنے والی مصروفیات ہیں، جو بجٹ کی بروقت تیاری میں تاخیر کا سبب بنی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔