پاکستان کی پہلی اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

مشال پاکستان، جو ورلڈ اکنامک فورم کا کنٹری پارٹنر ادارہ ہے، نے پاکستان کی پہلی اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ ہے جس میں آئین اور قانون میں دی گئی ادارہ جاتی و شخصی آزادیوں کا شہریوں کے عملی تجربات کے ساتھ جامع موازنہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک بھر میں 2000 افراد پر مشتمل سروے کیا گیا، جس میں 67 فیصد گریجویٹ، 32 فیصد ماسٹرز اور 1 فیصد پی ایچ ڈی افراد سے رائے لی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ ملک میں 19 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موبائل کنیکشنز موجود ہیں جبکہ خواتین کے موبائل فون رکھنے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں براڈبینڈ صارفین کی تعداد 14 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملک میں 2 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور فری لانس برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
میڈیا اور معلومات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 120 سے زیادہ ٹی وی چینلز اور سینکڑوں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن موجود ہیں جبکہ عوامی معلومات کے حصول کا رجحان تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
سروے کے مطابق 24 فیصد افراد فیس بک، 19.9 فیصد واٹس ایپ، 18 فیصد ویب سائٹس اور 15 فیصد ایکس سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ تاہم 55 فیصد افراد نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر جانبدار معلومات تک رسائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع جہاں معلومات تک رسائی بڑھا رہے ہیں وہیں غلط معلومات، معاشرتی تقسیم اور ہراسانی جیسے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
معاشی آزادی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں برانچ لیس والٹس کے صارفین کی تعداد 11 سے 12 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ 77 فیصد پاکستانی اپنے پیشے کے انتخاب میں خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں جبکہ 75 فیصد شہری کاروبار کرنے کی آزادی پر مثبت رائے رکھتے ہیں۔
خواتین کے حوالے سے 75 فیصد افراد نے ترقی کے مواقع پر اطمینان کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے جبکہ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔
مذہبی آزادی کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ 65 فیصد رائے دہندگان مذہبی آزادی اور مذہبی حقوق کے تحفظ سے مطمئن ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 6 لاکھ مساجد، 36 ہزار مدارس، 2000 چرچ اور سینکڑوں مندر و گردوارے موجود ہیں۔
سیاسی آزادی کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12 کروڑ 85 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جبکہ 2024 کے انتخابات کے لیے 92 ہزار 353 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے اور تقریباً 14 لاکھ انتخابی عملہ تعینات کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستیں موجود ہیں جبکہ خواتین کی وفاقی کابینہ میں شمولیت 9 سے 10 فیصد ہے۔ اقلیتوں کے لیے قومی اسمبلی میں 10 مخصوص نشستیں برقرار ہیں۔
عدالتی نظام کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ میں 59 ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ ہائی کورٹس میں ساڑھے 4 لاکھ سے زائد اور ضلعی عدالتوں میں 17 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
جیلوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں ایک لاکھ 2 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے 166 فیصد اور سندھ کی جیلوں میں 161 فیصد زیادہ قیدی موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں مذہبی گستاخی کے تقریباً 344 الزامات رپورٹ ہوئے، جن میں 62 فیصد پنجاب اور 30 فیصد سندھ سے سامنے آئے۔ 243 الزامات مسلمانوں جبکہ 101 غیر مسلم افراد پر لگائے گئے۔
تعلیم کے شعبے میں رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری اسکول انرولمنٹ 69 فیصد جبکہ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح تقریباً 13 فیصد ہے۔
سروے میں 62 فیصد شہریوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں پر ان کا اثر و رسوخ محدود ہے، جبکہ 35 فیصد افراد ملک کی سمت کے حوالے سے پر امید ہیں۔ 45 فیصد شہریوں کے مطابق صنفی، مذہبی اور نسلی مساوات میں بہتری آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہری شخصی آزادی کو معاشی مواقع، انصاف، سلامتی، مؤثر حکمرانی اور ڈیجیٹل شمولیت سے جوڑتے ہیں۔ عوام نے قومی استحکام، سلامتی اور ادارہ جاتی تسلسل سے وابستہ اداروں پر نسبتاً زیادہ اعتماد ظاہر کیا۔
رپورٹ میں پاکستان کو درپیش مستقبل کے اہم چیلنجز میں موسمیاتی تبدیلی، سائبر سیکیورٹی، غلط معلومات، پانی کی قلت، شہری آبادی میں اضافہ، نوجوانوں کی بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کو شامل کیا گیا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.



