آزاد کشمیر معاملے پر حکومت جذباتی ردعمل کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنائے، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کے معاملے پر حکومت کو جذباتی ردعمل کے بجائے تحمل، برداشت اور بات چیت کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت انتہائی تحمل اور برداشت کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے باقاعدہ رابطہ کیا تھا اور انہوں نے آج اپنا آئندہ کا لائحہ عمل دینا تھا، لیکن فی الحال وہ لائحہ عمل نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مزید دو کور ممبران نے علیحدگی کا اعلان کردیا
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت کا ردعمل جذباتی ہوتا ہے، تو پھر حکومت کا اپنا مقام اور وقار برقرار نہیں رہتا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک باضابطہ خط موصول ہوا ہے، جو انہوں نے وفاقی حکومت کو بھی بھجوا دیا ہے، لیکن اب تک حکومت کی جانب سے اس خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ یعنی مطالبات کی فہرست کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے، کسی بھی مظاہرین کی صرف تقریر کی بنیاد پر ملک میں تشدد کا راستہ بالکل اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









