اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

سرکاری ملازمین کیلئے ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق اہم ہدایات جاری

19 ستمبر, 2026 12:48

حکومت نے سرکاری اداروں اور ملازمین کے لیے ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔

 نیشنل سائبر سیکیورٹی ہینڈ بک 2026-27 میں سرکاری معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی اصول وضع کیے گئے ہیں۔ ان ہدایات کے تحت ملازمین کو ذاتی ای میل اکاؤنٹس، غیر منظور شدہ ڈیوائسز، کمرشل کلاؤڈ سروسز اور عوامی اے آئی پلیٹ فارمز کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ ہینڈ بک نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (PK-CERT) اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ اس میں سرکاری اداروں کے لیے بنیادی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے معیار بیان کیے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق سائبر سیکیورٹی صرف آئی ٹی ماہرین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر سرکاری صارف اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہینڈ بک میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ملازم کی آن لائن سرگرمی سرکاری معلومات کی رازداری، درستگی اور دستیابی کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے ہر صارف کو ڈیجیٹل سیکیورٹی کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

سرکاری معلومات اے آئی پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنے سے گریز

حکومت نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹولز کے استعمال کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خفیہ سرکاری دستاویزات، سرکاری ای میلز، سافٹ ویئر کا سورس کوڈ اور شہریوں کی ذاتی شناخت سے متعلق معلومات عوامی اے آئی پلیٹ فارمز پر درج نہ کریں۔

ہینڈ بک کے مطابق سرکاری کام کے لیے صرف وہی اے آئی ٹولز استعمال کیے جائیں جنہیں متعلقہ ادارے کی جانب سے منظوری حاصل ہو۔ اے آئی سسٹم کو کوئی فائل یا ہدایت فراہم کرتے وقت نام اور حساس معلومات ہٹانا ضروری ہوگا۔

اس کے علاوہ اے آئی سے تیار کیے گئے مواد کا انسانی جائزہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی درستگی اور سیکیورٹی کو جانچا جاسکے۔

غیر منظور شدہ اے آئی ایکسٹینشنز سے خبردار

سرکاری ملازمین کو غیر مجاز اے آئی ایکسٹینشنز اور پلگ اِنز انسٹال کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ ہینڈ بک میں انتظامی اکاؤنٹس کی معلومات، اے پی آئی کیز اور پاس ورڈز اے آئی ٹولز کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایسی معلومات کے افشا ہونے سے سرکاری نظام اور حساس ڈیٹا کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ملازمین کو اپنے لاگ اِن اور انتظامی رسائی سے متعلق معلومات محفوظ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

سرکاری کام کیلئے صرف سرکاری ای میل استعمال ہوگی

نئی ہدایات کے مطابق سرکاری امور اور خط و کتابت کے لیے صرف سرکاری ای میل اکاؤنٹس استعمال کیے جائیں گے۔ جی میل اور یاہو جیسے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کا استعمال صرف اس صورت میں کیا جاسکے گا جب متعلقہ محکمے سے خصوصی اجازت حاصل ہو۔

سرکاری ای میلز کو ذاتی ان باکس میں فارورڈ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری خط و کتابت اور اہم معلومات کو غیر محفوظ اکاؤنٹس تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

غیر منظور شدہ ڈیوائسز اور کلاؤڈ سروسز کا استعمال ممنوع

ہینڈ بک میں سرکاری کام کے لیے صرف منظور شدہ ڈیوائسز، کلاؤڈ سروسز اور ایپلی کیشنز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملازمین اپنی مرضی سے غیر منظور شدہ پروگرامز یا آن لائن سروسز استعمال نہیں کرسکیں گے۔

اگر کسی صورتحال میں ذاتی موبائل فون، لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیوائس استعمال کرنا ناگزیر ہو تو محکمہ سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ اس کے ساتھ متعلقہ سیکیورٹی اصولوں پر بھی عمل کرنا ہوگا۔

سائبر حملے کی علامات فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت

سرکاری ملازمین کو سائبر حملوں کی ابتدائی علامات پر فوری کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔ ان علامات میں غیر مجاز رسائی کی کوششیں، رینسم ویئر کے پیغامات، مشکوک ای میلز اور فائلوں کا غیر معمولی طور پر حذف یا تبدیل ہونا شامل ہے۔

اس کے علاوہ کمپیوٹر یا کسی سسٹم کا اچانک غیر معمولی انداز میں کام کرنا بھی خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ملازمین کو معاملہ چھپانے کے بجائے فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دینا ہوگی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔