اسرائیلی فوج کی یہودیوں کو یوسف علیہ السلام کے مقبرے تک پہنچانے کی کوشش، جھڑپیں، 50 فلسطینی گرفتار

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جارحانہ کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد شہروں پر چھاپے مارے اور 50 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں کے دوران وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن، چھاپے مارنے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کا ایک بڑا مرکز نابلس کا مشرقی علاقہ رہا، جہاں اسرائیلی فوج نے یہودی آباد کاروں کی بسوں کو بحفاظت یوسف علیہ السلام کے مقبرے تک پہنچانے کے لیے دھاوا بولا۔
اس دوران فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس میں اسرائیلی فوج نے براہ راست فائرنگ اور لائیو ایمونیشن کا استعمال کیا۔
اسرائیلی فوج نے الباذان روڈ پر ایک عارضی فوجی چوکی بھی قائم کر دی ہے، جس سے مقامی ٹریفک اور شہریوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خاتون کا اسرائیلی مفادات کے تحفظ کیلئے ٹرمپ کو 40 ملین ڈالرز کا عطیہ
قلقلیہ میں بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک خصوصی آپریشن کیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز کے اہلکار خفیہ طور پر شہر میں داخل ہوئے اور ایک نوجوان فلسطینی کو گرفتار کر لیا۔
اس کے علاوہ قلقلیہ کے جنوب میں واقع قصبے راس عطیہ میں بھی اسرائیلی دستوں نے تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ رام اللہ کے نواحی گاؤں کفر نعمہ میں بھی اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں داخل ہوئیں اور خوف و ہراس پھیلایا۔
انسانی حقوق کے نمائندوں کے مطابق ان چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 25 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 50 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب یہودی آباد کاروں کی جانب سے بھی فلسطینی شہریوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وادی عباس میں آباد کاروں کے تشدد سے ایک نوجوان زخمی ہوا، جبکہ الخلیل کے قریب آباد کاروں نے ایک فلسطینی مرد اور ایک کمسن بچے پر کالی مرچ کا اسپرے کیا، جس کے باعث انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












