یورپی جریدوں کی افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق

عالمی اور یورپی جریدوں نے افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے، جس سے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے زیر سایہ دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔
یورپی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں ان تمام خدشات کی تائید کر دی ہے، جو پاکستان ایک عرصے سے عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی موجودہ حکومت اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کے لیے مختلف دہشتگرد گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں تمام تر ضروری وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف عوامی تحریکیں منظم ہونے لگیں
جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت فتنہ الخوارج اور القاعدہ سمیت 20 سے زائد عالمی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں مکمل طور پر سرگرم ہیں، جنہیں طالبان کی جانب سے سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشتگرد مشرقی افغانستان، بالخصوص پاکستان کے ساتھ سرحدی صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہیں، جو پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک واضح اور براہ راست خطرہ ہے۔
ماہرینِ امور کا کہنا ہے کہ اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان ان مسلح گروہوں کے لیے ایک محفوظ بیس کیمپ بن چکا ہے، جہاں سے وہ پڑوسی ممالک پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
دہشتگردوں کی اس پشت پناہی، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے افغان طالبان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے اس رویے نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










