اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر کتے چھوڑنے کے ہولناک انکشافات

ایک سابق اسرائیلی فوجی تفتیش کار نے ہولناک انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج فلسطینی قیدیوں کو نشانہ بنانے کے لیے تربیت یافتہ کتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
اسرائیل کے سابق فوجی اور موجودہ تفتیش کار شائل بن افراہیم نے دستاویزی شواہد کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف درندگی کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔
نیتن یاہو حکومت کے حامیوں کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیے جانے کے باوجود، متاثرہ قیدیوں کے بیانات اور عینی شاہدین کی گواہیوں نے ایک بھیانک صورتحال پیش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پچاس سالہ نہاد نامی قیدی نے بتایا کہ اسے بدنام زمانہ عوفر جیل میں رکھا گیا، جہاں اسرائیلی پولیس کے کتے کو اس پر جنسی حملے کے لیے چھوڑ دیا گیا، جو اس کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا چیٹ جی پی ٹی کے جوابات اپنے حق میں تبدیل کرنے کا پروجیکٹ 545
ایک اور اٹھتالیس سالہ قیدی نے گواہی دی کہ اس نے اپنی آنکھوں سے ایک کتے کو دوسرے قیدی کے نازک اعضاء نوچتے ہوئے دیکھا، جس کے نتیجے میں وہ خون بہہ جانے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔
اسی طرح تینتالیس سالہ وجدی نامی قیدی کو بستر سے باندھ کر پہلے فوجیوں اور پھر کتے کے ذریعے درندگی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ جیل گارڈز اس عمل کی ویڈیو بناتے رہے۔
صحافی محمد عرب نے بھی سدے تیمان جیل میں ایسے ہی واقعات کی تصدیق کی ہے۔ انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ جب اسرائیل کی اعلیٰ فوجی وکیل نے ان واقعات کی فوٹیج لیک کی، تو اسے ہی ملازمت سے برطرف کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
یہ تمام افعال نہ صرف عالمی انسانی قوانین بلکہ اسلام اور یہودیت دونوں کے اخلاقی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











