اے آئی بانیوں کی جانب سے زیرِ زمین بنکرز کی تعمیر، کیا دنیا کسی بڑی تباہی کا سامنا کرنے والی ہے؟

دنیا کو مصنوعی ذہانت کا تحفہ دینے والے ٹیکنالوجی ٹائیکونز خاموشی سے زیرِ زمین بنکرز اور محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کر رہے ہیں، جس نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان ارب پتیوں کو کسی آنے والی بڑی تباہی کا پہلے سے علم ہے؟
ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام، جو بظاہر انسانیت کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ترقی کے خواب دکھاتے ہیں، نجی طور پر کسی آنے والی بڑی سماجی یا عالمی تباہی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی لیڈرز خاموشی سے ایسے بنکرز اور تباہی سے محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کر رہے ہیں، جو ایٹمی جنگ یا مصنوعی ذہانت کے باعث پیدا ہونے والے سماجی عدم استحکام کی صورت میں ان کی جان بچا سکیں۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا پیٹر تھیل کے ساتھ ایک معاہدہ ہے کہ کسی بھی بڑے عالمی بحران کی صورت میں وہ نیوزی لینڈ میں واقع تھیل کی 193 ہیکٹر پر محیط وسیع و عریض جائیداد پر منتقل ہو جائیں گے، جہاں ایک پہاڑی کے اندر جدید ترین بنکر نما رہائش گاہ تیار کی گئی ہے۔
نیوزی لینڈ صرف پیٹر تھیل کی پسند نہیں ہے، بلکہ 2018 تک سلیکون ویلی کے کم از کم سات بڑے ٹائیکونز وہاں اپنے بنکرز خرید چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیل کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے قتل عام کا انکشاف
اسی طرح میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ ہوائی کے جزیرے کاوائی پر ایک انتہائی محفوظ قلعہ نما کمپاؤنڈ تعمیر کر رہے ہیں، جس میں ایک وسیع زیرِ زمین پناہ گاہ بھی شامل ہے۔
ان ارب پتیوں کو ڈر ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کے بعد عوام ان کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس خوف کی ایک کڑی سیم آلٹ مین کے گھر پر ہونے والا مبینہ پیٹرول بم حملہ بھی بتایا جا رہا ہے۔
بعض ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ٹائیکونز مصنوعی ذہانت کے کنٹرول سے باہر ہو جانے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قیامت خیز صورتحال سے خوفزدہ ہیں۔
دوسری جانب، یہ صورتحال محض دفاعی بنکرز تک محدود نہیں بلکہ عسکری رخ بھی اختیار کر رہی ہے۔ پالانٹیر نامی کمپنی، جو جنگی علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں پیش پیش ہے، نے ایک نیا منشور جاری کیا ہے، جس میں امریکہ میں لازمی فوجی سروس اور مصنوعی ذہانت کی عسکری سازی پر زور دیا گیا ہے۔
امریکہ کی گرتی ہوئی عالمی بالادستی کو بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا بڑا ہدف چین کو سمجھا جاتا ہے۔
ہند و بحرالکاہل میں انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے یہ بڑے کھلاڑی ایک ایسی عالمی جنگ دیکھ رہے ہیں، جس کی تیاری میں وہ بنکرز تو بنا رہے ہیں، مگر عام انسانوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











