منگل، 28-اپریل،2026
منگل 1447/11/11هـ (28-04-2026م)

ایرانی حملوں سے کئی امریکی اڈوں کا نام و نشان تک مٹ چکا، سابق امریکی فوجی افسر

28 اپریل, 2026 08:30

سابق امریکی فوجی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ میں شامل امریکی فوجیوں میں خودکشیوں کا رجحان جنگی ہلاکتوں سے بڑھ گیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں میں کئی اڈوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل اور غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے سابق کارکن ٹونی ایگیلر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی فوج کے اندرونی بحران سے پردہ اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے لے کر اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو فوجیوں میں خودکشی کی شرح میدانِ جنگ میں ہونے والے نقصانات سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

ٹونی ایگیلر نے خاص طور پر منب میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا، جہاں ایک امریکی جنگی جہاز سے فائر کیے گئے ٹوماہاک میزائلوں کے نتیجے میں 168 اسکول طالبات شہید ہو گئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے اثرات، امریکہ میں غذائی مہنگائی کا ایک سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے اس مشن میں شامل فوجیوں کی روح کو زخمی کر دیا ہے اور جو کوئی بھی اس حقیقت سے واقف ہے، اس کے لیے یہ بوجھ اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف غیر ملکی میڈیا ہی نہیں بلکہ اب خود امریکی میڈیا بھی ان رپورٹس کو نشر کر رہا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی اڈوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو ہمیں بتائے جا رہے ہیں۔ ٹونی ایگیلر کا ماننا ہے کہ یہ نقصانات آنے والے کئی برسوں تک امریکی فوج کے لیے گہرے زخم ثابت ہوں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔