نیٹو ممالک کو یورپ سے مزید امریکی افواج کے انخلاء کا خدشہ، اٹلی کا نام بھی زیرِ غور

امریکی صدر کی جانب سے جرمنی سے 5 ہزار فوجی نکالنے کے اعلان کے بعد نیٹو کے اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ اٹلی جیسے دیگر ممالک سے بھی فوج نکال سکتے ہیں۔
یورپ میں امریکہ کے اتحادی اس وقت شدید انتظار اور بے چینی کی کیفیت میں ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی کے بعد مزید کن ممالک سے امریکی فوجیں نکالنے کا اعلان کریں گے۔
خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق نیٹو ممالک کے سینئر سفارت کاروں کو توقع ہے کہ ٹرمپ فوج میں مزید کٹوتیوں کا اعلان کر سکتے ہیں، جس میں اٹلی کا نام بھی سرفہرست ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کی تنصیب کا جو منصوبہ جو بائیڈن کے دور میں بنایا گیا تھا، اس کی منسوخی بھی ٹرمپ کے اگلے اقدامات کا حصہ ہو سکتی ہے۔
یورپی سفارت کاروں کے مطابق دیگر منظرناموں میں کچھ فوجی مشقوں میں امریکہ کی شرکت کا خاتمہ اور واشنگٹن کے ناپسندیدہ ممالک سے فوجیں نکال کر ان ممالک میں بھیجنا شامل ہے، جو ٹرمپ کے زیادہ حامی سمجھے جاتے ہیں، جیسے کہ پولینڈ۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر کے بیٹے نے سرکاری خرچ پر ڈونلڈ جے ٹرمپ انٹرنیشنل ایئرپورٹ قائم کردیا
اگرچہ ٹرمپ نے بارہا نیٹو سے امریکہ کی علیحدگی کا اشارہ دیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل علیحدگی امریکی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس وقت یورپ میں تقریباً 85 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا تک تیز رفتار رسائی کا ذریعہ ہیں۔
کانگریس کی جانب سے عائد کردہ ضوابط صدر ٹرمپ کی ان تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ سال منظور کردہ ایک قانون کے تحت یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 76 ہزار سے کم کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب وزیر دفاع ایلبرج کولبی اور نیٹو رکن ممالک کے درمیان نیٹو 3.0 کے نام سے ایک نئے اقدام پر بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد یورپ کو اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔
پولینڈ اور یونان جیسے ممالک امریکی فوج کی منتقلی کے لیے اپنے اڈوں کو وسعت دے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی کا روایتی کردار اب کم ہو رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












