اتوار، 17-مئی،2026
اتوار 1447/11/30هـ (17-05-2026م)

امریکہ کا ایران پر نئے فضائی حملوں اور جزیرہ خارگ پر قبضے کا منصوبہ

17 مئی, 2026 12:44

امریکی فوجی اور انٹیلیجنس حکام نے ایران کی اہم ترین تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئی اور انتہائی جارحانہ عسکری حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

معتبر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں دفاعی منصوبہ ساز ایسے ممکنہ فضائی حملوں کا خاکہ تیار کر رہے ہیں، جن کے ذریعے ایران کے اہم ترین سویلین اور عسکری بنیادی ڈھانچے یعنی انفرااسٹرکچرز کو براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس نئی حکمت عملی کے تحت امریکی فوج نہ صرف فضائی بمباری پر غور کر رہی ہے بلکہ ایرانی جزیرہ خارگ سمیت ملک کی انتہائی اہم اور تزویراتی معاشی تنصیبات پر براہ راست عسکری قبضے سے متعلق تجاویز بھی میز پر رکھ دی گئی ہیں۔

جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا اور بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے، جس پر ضرب لگانے سے ایرانی معیشت مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا واحد حل امریکہ ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی ہے، روس کی چینی مؤقف کی حمایت

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اس جارحانہ منصوبے کا ایک انتہائی حساس اور بڑا حصہ ایران کی ان زیر زمین جوہری تنصیبات کو ملیا میٹ کرنے سے متعلق ہے، جنہیں تہران نے پہاڑوں کو کاٹ کر محفوظ مقامات پر قائم کر رکھا ہے۔

امریکی فوجی حکام اور اسٹریٹجک ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ تجاویز وائٹ ہاؤس کے زیر غور ہیں، تاہم اس نئی حکمت عملی کو زمین پر نافذ کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور پرخطر مشن ثابت ہوگا۔

امریکی عسکری قیادت کو خدشہ ہے کہ ایران کی جانب سے اس ممکنہ حملے کا ردعمل انتہائی شدید ہوگا، جو پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے اثرات سے خود امریکی مفادات اور خطے میں موجود اس کے اتحادی بھی محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

اسی وجہ سے پینٹاگون کے اندر اس مشن کی کامیابی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گہرے تحفظات اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔