اتوار، 17-مئی،2026
اتوار 1447/11/30هـ (17-05-2026م)

اسرائیل کی بلا مشروط حمایت پر اب ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی شدید تقسیم

17 مئی, 2026 14:07

سروے کے مطابق مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کی اندھی حمایت کے معاملے پر اب امریکی ڈیموکریٹس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی شدید نظریاتی دراڑیں اور تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی میں تیزی سے ایسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ اسرائیل کی بلا مشروط مالی اور عسکری حمایت پر بحث صرف ڈیموکریٹک پارٹی تک ہی محدود ہے، جہاں نائب صدر کملا ہیریس کے پینتیس فیصد ووٹرز کا خیال تھا کہ اسرائیل غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران تمام جائز حدود سے تجاوز کر چکا ہے اور صرف دس فیصد ڈیموکریٹس اب اس جنگ کو جائز مانتے ہیں۔

تاہم امریکی نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کی جانب سے سامنے لائے گئے حالیہ رائے عامہ کے سروے کے نتائج اور سیاسی تجزیوں کے مطابق اب یہ شدید بحث اور خلیج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے، جس نے قدامت پسند اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

سات اکتوبر کے حملے کے بعد اگرچہ پوری ریپبلکن پارٹی اسرائیل کے پیچھے مضبوطی سے متحد نظر آئی تھی، لیکن اب ایران کے ساتھ جنگ بڑھنے کے خطرات اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیرونی مداخلت کے خلاف پالیسی کی وجہ سے پارٹی کے کچھ دھڑوں کے اندر اسرائیل کے لیے حمایت تیزی سے متزلزل ہو رہی ہے۔

خاص طور پر ٹرمپ کی میک امریکہ گریٹ اگین یعنی ماگا تحریک سے الگ رہنے والے قدامت پسندوں اور نوجوان ریپبلکنز کے درمیان یہ تشویش شدید ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی شرکت کیخلاف پانچ ممالک کا بائیکاٹ، یوروویژن فائنل شدید تنازعات کا شکار

پبلک فرسٹ آرگنائزیشن کے سروے کے مطابق ماگا تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکنز میں یہ ماننے کا رجحان دس فیصد زیادہ ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکی خارجہ پالیسی پر حد سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

یہ اختلافات اس وقت عوامی سطح پر سامنے آئے، جب ٹاکر کارلسن جیسے معروف قدامت پسند میڈیا پرسن، سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین اور ممتاز سیاست دان سٹیو بینن جیسی بڑی ریپبلکن شخصیات نے واشنگٹن اور تل ابیب کے قریبی تعلقات کی نوعیت اور ایران کے ساتھ تنازع کے پھیلاؤ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس کے برعکس کانگریس میں موجود ریپبلکن ارکان اور بین شاپیرو جیسے بااثر افراد اب بھی پرانے مؤقف پر اڑے ہوئے ہیں۔

سروے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ پینتیس سال سے کم عمر کے بتیس فیصد ٹرمپ ووٹرز کا خیال ہے کہ امریکہ اسرائیل کے بہت زیادہ قریب ہے اور وہ تعلقات میں دوری چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی یعنی ایپیک جیسے اسرائیل نواز لابی گروپس کی امریکی انتخابات میں مالی مداخلت بھی اب ریپبلکنز کے اندر ایک اضافی تنازع کا نقطہ بن گئی ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ اب پارٹی اتحاد کا عنصر نہیں رہا بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کے اندر تقسیم کا نیا گڑھ بن چکا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔