اسرائیلی بحریہ کا غزہ کے امدادی بحری بیڑے پر حملہ، 428 رضاکار اغوا

اسرائیلی بحریہ نے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے محصور غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد لے جانے والے ایک اور بڑے بحری بیڑے پر بین الاقوامی سمندر میں وحشیانہ حملہ کر کے اس پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا ہے۔
عالمی صمود فلوٹیلا کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اسٹیٹمنٹ کے مطابق اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہازوں نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے ساحل سے تقریباً ایک سو پچاس کلومیٹر دور امدادی بحری جہازوں کو زبردستی روکا اور ان پر غیر قانونی طور پر دھاوا بول دیا۔
عالمی سمندری قوانین کے تحت کسی بھی ملک کی علاقائی حدود اس کے ساحل سے صرف بائیس کلومیٹر تک ہوتی ہیں، جہاں بھی غیر ملکی بحری جہازوں کو معصومانہ گزرگاہ کا پورا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے ان تمام قوانین کو پامال کرتے ہوئے اس کارروائی کو سرانجام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی و اسرائیلی حملے ناکام، ایران کا ابیک زیر زمین میزائل شہر مکمل طور پر بحال
انتظامیہ کے مطابق بیڑے پر سوار کل چار سو اٹھائیس ارکان کو اسرائیلی فورسز نے زبردستی اغوا کر کے حراست میں لے لیا ہے، جن کا اب تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی قونصلر امداد تک رسائی دی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے محصور اور مظلوم عوام تک کسی بھی غیر سرکاری انسانی امداد کی رسائی کو روکنے اور انہیں دنیا سے مکمل طور پر کاٹنے کی ایک اور وحشیانہ کڑی ہے، کیونکہ اسرائیلی افواج ماضی میں بھی غزہ پہنچنے والے تمام مماثل امدادی بحری بیڑوں کو طاقت کے زور پر ناکام بناتی رہی ہیں۔
عالمی صمود فلوٹیلا نے اس بزدلانہ کارروائی کو منظم کرنے والوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تحریک کو روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، انہوں نے صرف لکڑی اور لوہے کے جہازوں کو روکا ہے، لیکن اسرائیل کا بیانیہ دنیا بھر میں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، اور جب ایک مرتبہ یہ زوال شروع ہو جائے تو یہ دوبارہ کبھی خاموشی کی طرف نہیں لوٹتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










