صدر ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کو ٹیکس آڈٹ سے مستقل استثنیٰ جاری

امریکی محکمہ انصاف نے ایک انتہائی غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے صدر، ان کے بیٹوں اور ان کی کاروباری تنظیم کو سرکاری ٹیکس آڈٹ سے ہمیشہ کے لیے مستقل استثنیٰ فراہم کر دیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے محکمہ داخلہ کے ریونیو ادارے کے خلاف دائر کردہ دس ارب ڈالر کے مقدمے کو باہمی طور پر حل کرنے کے ٹھیک ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس کے عوض امریکی حکومت نے صدر کے قریبی ساتھیوں اور اتحادیوں کے قانونی چیلنجز اور دعوؤں کے لیے ایک ارب اسی کروڑ ڈالر کا ایک خطیر فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اس فیصلے کو باضابطہ طور پر تحریری شکل دیتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کے تحت تمام مدعیان کو ہر قسم کے ٹیکس دعوؤں اور تحقیقات سے بری الذمہ قرار دیتا ہے، انہیں معاف کرتا ہے اور ہمیشہ کے لیے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے حق سے دستبردار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ انتظامیہ محمود احمدی نژاد کو دوبارہ ایران کا صدر بنانا چاہتی تھی، نیویارک ٹائمز
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمہ انصاف نے بدنام زمانہ ایپسٹین فائلز میں صدر کے نام کے تمام حوالوں کو سرکاری ریکارڈ سے مکمل طور پر دفن کر دیا تھا، اور بعد ازاں ان شائع شدہ فائلوں کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی یا استغاثہ کو خارج کر دیا گیا تھا۔
اب اس نئے فیصلے کے بعد صدر کے پورے خاندان کو ملک کے اندرونی ریونیو آڈٹ سے مستقل بنیادوں پر مکمل استثنیٰ کی ڈھال فراہم کر دی گئی ہے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اب اس بااثر خاندان کو عدالتوں میں کسی وکیل کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ وہ اب خود ملکی محکمہ انصاف کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










