بدھ، 10-جون،2026
منگل 1447/12/23هـ (09-06-2026م)

ایرانی میزائل حملے امریکی دعوؤں سے زیادہ درست اور تباہ کن نکلے

09 جون, 2026 11:30

بی بی سی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملے امریکی دعوؤں سے کہیں زیادہ درست اور تباہ کن تھے، جس میں امریکہ کے اربوں ڈالر کے دفاعی نظام اور طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی جانب سے کیے جانے والے جوابی میزائل حملے امریکی حکام کے عوامی بیانات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر، درست اور بڑے پیمانے پر تھے۔

بی بی سی ویریفائی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے مشرق وسطیٰ کے 8 ممالک میں موجود اہم فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، اردن، بحرین اور عمان شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے فوجی مقامات کی حقیقی تعداد 28 تک ہو سکتی ہے۔

ان فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ایڈوانسڈ ایئر ڈیفنس سسٹم، فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے، جدید ترین راڈار اور دیگر فوجی بنیادی ڈھانچے تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں، جن کی مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں شدید ترین معاشی کساد بازاری کا خدشہ، ایران جنگ کے اثرات پر موڈیز کی ٹرمپ کو وراننگ

متحدہ عرب امارات کے السدیرہ اور الرویس فضائی اڈے اور اردن کے موفق السلتی فضائی اڈے پر 3 تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل بیٹریاں تباہ ہوئیں، جبکہ امریکہ کے پاس پوری دنیا میں اس ایک ارب ڈالر مالیت کے سسٹم کی صرف 8 بیٹریاں موجود ہیں۔

سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر نگرانی اور ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک قیمتی ای-3 سینٹری اوواکس طیارہ بھی شامل ہے۔

کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر، طیاروں کے ہینگرز اور فوجی رہائشی بیرکوں کو نقصان پہنچا، جبکہ کیمپ عارفجان میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام تباہ ہو گیا۔

کم از کم فروری 2026 سے اب تک امریکہ کے ایف-15 اور ایف-35 جیسے جدید ترین جنگی طیارے تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 24 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز اور 1 اے-10 حملہ آور طیارہ بھی گرایا جا چکا ہے۔

مجموعی طور پر نقصان کا شکار ہونے والے امریکی طیاروں کی تعداد 42 سے تجاوز کر چکی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس آپریشن پر اب تک 29 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے، مگر مبصرین کا ماننا ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اس جنگ میں امریکہ نے مہنگے ترین ہتھیار استعمال کیے جبکہ ایران نے سستے اور تباہ کن ڈرونز سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

اسی وجہ سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے وارننگ دی ہے کہ اب خلیجی ممالک امریکی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔