منگل، 28-جولائی،2026
منگل 1448/02/14هـ (28-07-2026م)

مقبوضہ کشمیر میں تاریخ مسخ کرنے کی بھارتی کوشش، لائبریریوں میں کتابوں کا آڈٹ شروع

28 جولائی, 2026 11:33

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے تاریخ مسخ کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور لائبریریوں میں موجود کتابوں اور ڈیجیٹل مواد کے خلاف شدید کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں تاریخی حقائق کو مٹانے اور کشمیریوں کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک اور سنگین بھارتی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔

غیر ملکی جریدے مڈل ایسٹ آئی کے اداریے کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی تمام عوامی لائبریریوں اور تعلیمی اداروں میں موجود کتابوں اور ڈیجیٹل آرکائیوز کا آڈٹ شروع کر دیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے ان تمام کتابوں اور مواد کو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے، جنہیں حکومت قوم مخالف، علیحدگی پسند یا قابل اعتراض قرار دے رہی ہے۔

اس سلسلے میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے شدید اعتراض کے بعد 250 سے زائد اسکولوں میں تقسیم کی گئی 2 کتابوں کو فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر انتخابات: میرپور ڈویژن کے 10 حلقوں میں مسلم لیگ ن کو واضح برتری

کتابوں کی تقسیم کے معاملے پر محکمہ تعلیم کے 8 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ مصنفین اور پبلشرز کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دونوں متعلقہ پبلشرز کو بلیک لسٹ کر کے ان کی پہلے سے شائع شدہ تمام کتابوں کو بھی مارکیٹ سے واپس بلا لیا گیا ہے۔

کشمیری دانشوروں نے اس لائبریری آڈٹ کو تعلیمی آزادی اور تنقیدی تحقیق کے خلاف ایک نئی سازش قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کتابوں پر پابندیاں لگانے سے تاریخی حقائق اور کشمیری عوام کی یادیں نہیں مٹائی جا سکتیں۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں سنسرشپ، نگرانی اور فکری پابندیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ برس بھی 25 کتابوں پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ رواں برس لائبریریوں کے آڈٹ سے تعلیمی اداروں پر ریاستی کنٹرول کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔