سابق افغان جنرل سمیع سادات کا طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان

سابق افغان جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت اور قندھار سے فوجی کارروائیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلی بار کسی سابق اعلیٰ ملٹری کمانڈر نے اعلانیہ منظر عام پر آ کر طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت اور فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ اور سابق افغان فوجی جنرل سمیع سادات نے قندھار سے اپنی فوجی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے افغان عوام کو جلد آزادی کی امید دلائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں کو پڑوسی ممالک پر دباؤ کے لیے استعمال کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار
صحافی عبداللہ جان صابر کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ افغان عوام پر مظالم اور بالخصوص خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کی وجہ سے عوام طالبان حکومت سے بری طرح بدظن ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو عوامی خدمت کا بہترین موقع ملا تھا، لیکن وہ فلاحی کاموں کے بجائے صرف اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی سرپرستی اور پالیسیوں کے باعث پڑوسی ممالک کی ناراضگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
عبداللہ جان صابر کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کے خلاف مختلف مزاحمتی گروہوں کا ممکنہ اتحاد قائم ہونا موجودہ حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کرنے والے افغان عوام کی موجودہ سیاسی صورتحال اب ایک نئے اور حتمی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












