فلسطینی صحافیوں پر اسرائیلی مظالم کی انتہا؛ صرف جولائی میں 108 حملے

فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں جولائی کے دوران اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں نے فلسطینی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں پر کم از کم 108 حملے کیے۔
سنڈیکیٹ کی فریڈمز کمیٹی نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں گرفتاری، حراست، تشدد، پوچھ گچھ، صحافتی کوریج میں رکاوٹ ڈالنے کے علاوہ صحافتی آلات چھیننے یا تباہ کرنے کے واقعات شامل ہیں۔
کمیٹی کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے باعث صحافیوں کے لیے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں کی زمینی صورتحال کی رپورٹنگ مشکل ہوتی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں مختصر مدت کی حراست اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کے 58 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو خلاف ورزیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے مطابق صحافیوں پر آبادکاروں کے 11 حملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں جسمانی تشدد، دھکے دینا اور دھمکیاں شامل تھیں، جبکہ زیادہ تر واقعات اس وقت پیش آئے جب صحافی آبادکاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی کوریج کر رہے تھے۔
کمیٹی نے بتایا کہ 12 واقعات میں اسرائیلی فورسز نے صحافیوں پر اسٹن گرینیڈ یا آنسو گیس استعمال کی، جس کے باعث بعض صحافیوں کو دم گھٹنے کی شکایت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 6 صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 4 صحافی زخمی ہوئے، جن میں بعض کو شیلنگ کے نتیجے میں خون بہنے کی چوٹیں بھی آئیں۔ مزید 2 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 4 سے ان کی صحافتی رپورٹنگ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔
سنڈیکیٹ کے مطابق صحافیوں کے گھروں یا میڈیا دفاتر پر 4 چھاپے بھی مارے گئے، جن میں ایک میڈیا ادارے کو بند کرنے کا واقعہ شامل ہے۔ صحافتی آلات چھیننے یا تباہ کرنے کے 3 جبکہ فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کے 2 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے اطراف سے 2 صحافیوں کو نکال دیا گیا۔
سنڈیکیٹ نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو دھمکیوں، حملوں اور تعاقب کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس عرصے کے دوران اسرائیلی حملوں میں 270 سے زائد صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ متعدد صحافیوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










