شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی

دمشق: شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی عدالت نے بشار الاسد دور کے سکیورٹی عہدیدار اور سابق صدر کے کزن عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران عاطف نجیب کمرہ عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے ملزمان کے لیے مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔
عاطف نجیب شامی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ 2011 میں بشار الاسد کے دور حکومت کے دوران وہ شام کے صوبے درعا میں پولیٹیکل سکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے۔ ان پر درعا میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد شام میں شروع ہونے والی بدامنی نے طویل خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی۔
شامی عدالت کے مطابق بشار الاسد کو پیشگی منصوبہ بندی اور جان بوجھ کر قتل کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں ان کے دور حکومت کے دوران ہونے والے مبینہ جرائم سے متعلق الزامات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
دوسری جانب بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد اور وہ خود دسمبر 2024 میں ہونے والی پیش رفت کے بعد روس منتقل ہو گئے تھے، جہاں سے ان کے موجودہ قیام کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
بشار الاسد نے طویل عرصے تک شام پر حکمرانی کی، تاہم 2024 کے اواخر میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ موجودہ عدالتی کارروائیاں بھی سابق حکومت کے دوران ہونے والے واقعات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق احتساب کے عمل کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










