بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش کا خدشہ، افغان خواتین سے انصاف کا آخری راستہ بھی چھننے کا خطرہ

12 اگست, 2026 09:22

لندن: انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی ممکنہ بندش یا مؤثر طور پر غیر فعال ہونے کے خدشے نے افغانستان میں خواتین کے حقوق اور طالبان قیادت کے مبینہ جرائم کے احتساب سے متعلق نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ عالمی عدالت کے کمزور پڑنے سے افغان خواتین کے لیے انصاف کے محدود راستے مزید مسدود ہو سکتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی گئیں، جن کے نتیجے میں ان کی تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حقوق شدید متاثر ہوئے۔

برطانوی جریدے کے مطابق افغان خواتین کے لیے پہلے ہی انصاف تک رسائی کے راستے انتہائی محدود ہیں، جبکہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ ان چند بین الاقوامی فورمز میں شامل ہے جہاں طالبان رہنماؤں کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے قانونی کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے طالبان کے بعض رہنماؤں کے خلاف خواتین اور لڑکیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے والے جرائم کے معاملے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔

فنانشل ٹائمز نے خبردار کیا کہ اگر عالمی عدالت مؤثر انداز میں اپنا کام جاری رکھنے کے قابل نہ رہی تو طالبان رہنماؤں سمیت دیگر بااثر افراد کے خلاف احتساب کا عمل مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ جریدے نے اس صورتحال کو دیگر عالمی مقدمات، جن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے متعلق کارروائی بھی شامل ہے، کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں خواتین کے لیے موجودہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے جب طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان اقدامات پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی انصاف کا مقصد صرف ماضی میں ہونے والے جرائم پر سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل میں سنگین جرائم کی روک تھام بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر طاقتور حکمرانوں یا مسلح گروہوں کو یہ یقین ہوجائے کہ انہیں کسی صورت جواب دہ نہیں بنایا جاسکتا تو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

افغان خواتین کے حوالے سے یہ خدشات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ملک کے اندر آزادانہ عدالتی اور قانونی ذرائع تک رسائی محدود ہونے کے باعث بین الاقوامی احتساب کے ادارے ان کے لیے ایک اہم متبادل فورم سمجھے جاتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔