غزہ پیس بورڈ نے امن کیلئے عالمی فورس کی تعیناتی، شرم الشیخ معاہدہ اور حماس کا ایفائے عہد لازمی قرار دے دیا

غزہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تین بنیادی شرائط کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ بحران صرف سیکیورٹی یا انسانی نہیں بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔
بورڈ آف پیس کا کہنا ہے کہ حماس اور غزہ کے مسلح گروہ اپنے ہتھیار سپرد کرنے اور تمام انتظامی و سیکیورٹی اختیارات عبوری انتظامیہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نِکولائے ملادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار حماس اور غزہ میں موجود تمام مسلح دھڑے اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی وہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ عبوری انتظامیہ کو تمام شہری اور سیکیورٹی اختیارات منتقل کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔
ملادینوف کا کہنا تھا کہ اس اہم پیشرفت سے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ اسرائیلیوں کی سیکیورٹی اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن و معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن کے فارمولے میں غزہ کے ہر قسم کے ہتھیاروں کی خاتمہ شامل ہے اور اس میں کوئی مبہم نقطہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی وزیر کا غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مطالبہ
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کا انخلا ہتھیاروں کی تصدیق شدہ تباہی کے بعد مراحل وار اور باہمی تناسب سے ہوگا، جبکہ ہر قدم پچھلے قدم کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔
ملادینوف کے مطابق اس سارے عمل کی پیشرفت کسی تاریخ یا کیلنڈر کے بجائے صرف کارکردگی کی بنیاد پر دیکھی جائے گی اور مکمل تصدیق کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
نِکولائے ملادینوف نے مزید کہا کہ غزہ کا بحران صرف سیکیورٹی یا انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمیشہ سے سیاسی اور حکمرانی کا بحران رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عبوری دور میں نظم و نسق سنبھالنے کے لیے آزاد فلسطینی ماہرین پر مشتمل قومی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس انتظامی تبدیلی کا اندازہ رسمی ڈھانچوں کے بجائے اس بات سے لگایا جائے گا کہ فلسطینی شہریوں کی روزمرہ زندگی، خدمات اور سیکیورٹی میں کتنا نمایاں سدھار آیا ہے۔
انہوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے 3 اہم شرائط بتائیں، جن میں عالمی تحفظاتی فورس کی تعیناتی، شرم الشیخ معاہدے کی پاسداری اور حماس کی طرف سے اپنے وعدوں پر عمل شامل ہے۔
انہوں نے انتباہ دیا کہ کسی بھی جانب سے بلاوجہ کی فوجی کارروائی، سرنگوں کا استعمال یا سامان کی رکاوٹ اس اہم امن عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











