نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی خواتین صحافیوں سے جنسی ہراسانی

نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے لیے نکالے گئے احتجاجی جلوس کے دوران تین خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کردیئے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور ممبئی میں الیکشن کمیشن کے ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے حق میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
اتوار کے روز مسلسل تیسرے دن بھی ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ نئی دہلی کے جنتر منتر کے مقام پر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے نوجوانوں کو زبردستی گھسیٹ کر حراست میں لیا۔ اس دوران تین خواتین صحافیوں نے الزام لگایا کہ دورانِ احتجاج پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ نامناسب چھاڑ پھاڑ اور جنسی ہراسانی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھارتی گینگ کے کارندے کو دنیا بھر کے لیے خطرہ قرار دے دیا
جے این یو کی طالبہ اور کارکن آہنہ سنگھ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پولیس نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور پولیس کی جانب سے شدید بربریت کا مظاہرہ کیا گیا۔
پریس کلب آف انڈیا نے اس واقعے پر شدید صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت میں اس قسم کے رویے کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی ضلع کو اس حوالے سے باضابطہ شکایت موصول ہو چکی ہے اور اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اسے کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ تنازعہ ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی کے عمل سے شروع ہوا، جس پر اپوزیشن جماعتیں مسلسل الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











