ہفتہ، 13-جون،2026
ہفتہ 1447/12/27هـ (13-06-2026م)

ٹرمپ انتظامیہ بڑی مشکل میں پھنس گئی، مقدمہ دائر

15 فروری, 2025 10:47

امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے ساتھ مل کر کیوبا کی گوانتاناموبے جیل میں منتقل ہونے والے تارکین وطن کو وکلاء سے بات کرنے سے روکنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔

اے سی ایل یو کے نیشنل پریزن پروجیکٹ کے سینئر اسٹاف اٹارنی یونس چو نے مڈل ایسٹ آئی کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا آئین حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ لوگوں کو وکیل سے بغیر رابطے کے جیل میں رکھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ امریکا کے زیر انتظام اس مرکز میں کم از کم 30,000 افراد کی جگہ تیار کرے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم "متشدد مجرموں” وہامن قید کیا جاسکے۔

لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا انہیں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

مقدمے کے مطابق ان میں سے ایک اے سی ایل یو کیس کی مدعی یوکیریس کیرولینا گومز لوگو ہیں جو گوانتانامو میں اپنے بھائی کی قید کی تصویر دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد تصاویر شائع کی ہیں جن میں ہتھکڑیاں پہنے ہوئے افراد کو جزیرے کی جیل بھیجنے کے لیے فوجی طیاروں میں لے جایا جا رہا ہے۔

لوگو کو معلوم ہوا کہ حکومت الزام لگا رہی ہے کہ اسے اور حراست میں لیے گئے دیگر افراد وینزویلا کے ٹرین ڈی اراگوا گینگ کے ارکان ہیں اور وہ اب اس کی حفاظت کے بارے میں بہت فکرمند ہے۔

آئی سی ای ایجنٹس کے لیے روزانہ 1200 سے 1400 افراد کو حراست میں لینے کا کوٹہ مقرر کرنے کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے گوانتانامو منتقل کیے جانے والے نئے قیدیوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن مخالف اپنے انتہائی سخت گیر بنیاد کو مطمئن کرنے کے لیے عوامی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

 

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔