نوکریاں ہی نوکریاں!!! سرکاری نوکری کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری؛ اپلائی کرنے کا طریقہ جان لیں

Jobs Galore!!! Big Good News for Pakistanis Seeking Government Jobs
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے میں گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسران کی بھرتیوں اور ترقیوں کے لیے نئے قواعد کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ان مجوزہ قوانین سے ادارے کے سروس اسٹرکچر میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ حکام کے مطابق ان قواعد کا مقصد بھرتی اور ترقی کے نظام کو واضح اور منظم بنانا ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
نئے مسودے کے تحت گریڈ 17 میں بھرتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر کی جائے گی۔ ایف آئی اے میں انتظامی بنیادوں پر چار بڑے گروپس بنائے گئے ہیں۔ ان میں انویسٹی گیشن گروپ، لیگل گروپ، ایکسپرٹس گروپ اور منسٹریل گروپ شامل ہیں۔ بھرتیاں براہ راست انہی گروپس میں ہوں گی۔ ملازمین کو اپنے ابتدائی گروپ میں ہی سروس مکمل کرنا ہوگی۔ گروپ تبدیل کرنے کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں۔
مسودے میں اعلیٰ گریڈز میں تعیناتی کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے۔ گریڈ 20 اور 21 میں زیادہ تر افسران پاکستان پولیس سروس سے لیے جائیں گے۔ کچھ نشستیں محکمانہ افسران کے لیے مخصوص ہوں گی۔ گریڈ 19 میں دونوں کی شرح برابر رکھی گئی ہے۔ گریڈ 17 اور 18 میں زیادہ حصہ محکمانہ افسران کو دیا جائے گا۔ اس سے ادارے کے اندر موجود عملے کو آگے بڑھنے کے بہتر مواقع مل سکیں گے۔
نئے قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کنٹریکٹ پر بھرتی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈپیوٹیشن پر آنے والے افسران کو مستقل طور پر ادارے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ محکمانہ ترقی کے لیے کم از کم سروس مدت پوری کرنا لازم ہوگا۔ اس کے ساتھ لازمی تربیتی کورسز مکمل کرنا بھی شرط رکھی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
مسودے میں ترقی کا معیار بھی طے کر دیا گیا ہے۔ ترقی سنیارٹی اور فٹنس کی بنیاد پر ہوگی۔ ہر سال پروموشن بورڈ کا اجلاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے ترقی کے عمل میں تاخیر کم ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق مسودہ منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔ اس سے ایف آئی اے کے انتظامی نظام میں واضح بہتری آئے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











