ایرانی پاسداران انقلاب نے براہ راست مذاکرات کی درخواست کا وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی درخواست کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی طرف سے براہِ راست مذاکرات کی باتیں درست نہیں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی رویے اور پالیسیوں کے باعث کسی بھی قسم کے مذاکرات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
ادھر ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ ذخیرہ اب تک استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے آغاز تک ایران نے فضائی صورتحال پر جزوی کنٹرول برقرار رکھا تھا اور اہم علاقوں میں دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی۔
ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران متحد ہے جبکہ امریکا داخلی اور اسٹریٹجک الجھن کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام ایک موقف پر کھڑے ہیں۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور وہ سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر متحد ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک غیر ملکی جہاز کو تحویل میں لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز کو امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبے میں روکا گیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے گی۔ ان کے مطابق ایسے گروہوں کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











