ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان القاعدہ اوردیگر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا

21 فروری, 2026 09:22

افغانستان کی موجودہ صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد بعض شدت پسند تنظیمیں دوبارہ متحرک ہوئی ہیں۔

امریکی جریدے Just the News نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کی حکمرانی کے دوران القاعدہ سمیت کچھ دیگر گروہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، جس کے باعث وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کو افغانستان میں منظم ہونے کا موقع ملا ہے۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان اور القاعدہ کے درمیان روابط ماضی میں بھی موجود رہے ہیں، اور موجودہ حالات میں ان تعلقات کے اثرات خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی موجودگی ہمسایہ ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ سرحد پار حملوں اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ افغانستان دوبارہ کسی بڑے سیکیورٹی بحران کا مرکز نہ بنے۔

دوسری جانب طالبان حکام کی طرف سے اکثر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔