سعودی – امارات تعلقات میں دراڑ نمایاں، خطے کا منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا

saudia arab uae rift
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں طویل عرصے تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک مضبوط اور ہم خیال اتحادی سمجھا جاتا رہا، مگر فروری 2026 کے بدلتے حالات میں دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کی خبریں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
یمن سے مصر تک کئی معاملات میں یکساں مؤقف رکھنے والے یہ دو اہم خلیجی ممالک اب ایک نئی تزویراتی صف بندی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ریاض کے بااثر دانشور ڈاکٹر احمد التویجری کے ایک حالیہ مضمون نے اس بحث کو مزید تقویت دی۔ انہوں نے ابوظہبی پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دے رہا ہے۔
سعودی حلقوں میں اس مضمون کو غیر معمولی اہمیت دی گئی کیونکہ وہاں ذرائع ابلاغ پر سخت نگرانی کے باوجود اس نوعیت کی تنقید سامنے آنا اس امر کی علامت سمجھا گیا کہ قیادت اس معاملے پر سنجیدہ تحفظات رکھتی ہے۔ بعد ازاں اس مضمون کو عارضی طور پر ہٹائے جانے اور پھر دوبارہ شائع کیے جانے کی اطلاعات نے قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا۔
غزہ میں جاری خونریزی کو بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا ایک بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب خود کو عالمِ اسلام کا مرکزی کردار سمجھتا ہے اور اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں پر سخت تحفظات رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی ممالک کا مشترکہ ردعمل، امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت
ماضی میں امن کے لیے پیش کیے گئے سعودی اقدامات کو عملی پیش رفت نہ ملنے کے باعث ریاض میں یہ سوچ مضبوط ہوئی ہے کہ موجودہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ پائیدار امن ممکن نہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر امارات کا مختلف طرزِ عمل سعودی عرب کو ناگوار گزرا ہے۔
اسرائیل کی حکمت عملی کو 1982 میں پیش کیے گئے اوڈڈ ینون منصوبے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جس میں عرب ممالک کو نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سوچ بیان کی گئی تھی۔
سعودی تجزیہ کاروں کے مطابق شام اور لبنان میں بعض اقلیتی گروہوں کے ساتھ بڑھتے روابط اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ ریاض اسے اپنے گرد دباؤ کا حصار تصور کرتا ہے جبکہ امارات پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یمن میں کردار، سوڈان کی صورتِ حال اور تیونس کے بعض معاملات میں ابوظہبی کی سرگرمیوں کو بھی ریاض میں تشویش کی نظر سے دیکھا گیا۔ سعودی حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ خطے کے بڑے فیصلوں میں طاقت کے توازن کا خیال رکھا جانا چاہیے اور کسی ایک ریاست کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو برقرار رکھا ہے اور ترکی کے ساتھ بھی روابط کو وسعت دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پالیسی خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچانے اور تزویراتی توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے سعودی عرب کو ایران سے قربت پر تنبیہ بھی سامنے آئی، تاہم ریاض نے اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہ محض وقتی ناراضی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جغرافیائی اور سیاسی حقیقتوں کی عکاسی ہے جہاں پرانے اتحاد نئی صف بندیوں میں ڈھلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









