افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کا سرحدی علاقوں پر قبضے کا خواب چکنا چور

سینئر صحافی حماد حسن کی ایک رپورٹ کے مطابق حملے سے قبل طالبان حکومت کی رہبری شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان نے حملہ کیا تو مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مدد لی جائے گی۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں نے طالبان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ حملے کی صورت میں فوری طور پر سرحد سے ملحقہ پاکستانی علاقوں پر قبضہ کر لیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : باز نہ آئے تو وجود مٹ جائے گا، رانا ثنااللہ کا افغان طالبان کو سخت انتباہ
یہ خفیہ پیغام پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو موصول ہوا، جس کے بعد بنوں اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
تاہم جب پاکستان نے عملی طور پر حملہ کیا تو وہ تمام دہشت گرد تنظیمیں کہیں دکھائی نہیں دیں اور طالبان کے عسکری دستے میدانِ جنگ میں اکیلے رہ گئے۔
طالبان زیادہ دیر تک پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا مقابلہ نہ کر سکے اور پاکستانی افواج انتہائی آسانی کے ساتھ افغانستان کے کئی خطرناک اور اندرونی علاقوں میں داخل ہو کر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









