جمعرات، 23-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/06هـ (23-04-2026م)

ایران میں غیر معمولی بارشیں اور برف باری، کیا امریکہ کا ‘موسمیاتی ہتھیار’ تباہ ہو گیا؟

23 اپریل, 2026 15:05

ایران اور عراق میں برسوں کی خشک سالی کے بعد اچانک شروع ہونے والی شدید بارشوں اور برف باری کے بعد دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خطے میں امریکی موسمیاتی مداخلت کا خفیہ مرکز تباہ ہونے سے قدرتی موسم بحال ہو گیا ہے۔

ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والی غیر معمولی بارشوں اور ریکارڈ برف باری نے جہاں برسوں سے جاری خشک سالی کا خاتمہ کیا ہے، وہیں عالمی سطح پر ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے، جس نے موسمیاتی جنگ (کلائمیٹ وارفیئر) کے تصور کو حقیقت کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔

اس بحث کا آغاز کابل میں قائم ایرانی سفارت خانے کے ایک سوشل میڈیا پیغام سے ہوا، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا تھا۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں امریکہ کا ایک خفیہ کلاؤڈ سیڈنگ اور کلائمیٹ چینج سینٹر کام کر رہا تھا، جو خطے کے موسمیاتی پیٹرن کو مصنوعی طور پر کنٹرول کر رہا تھا۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ ایران جنگ کے دوران اس مرکز کی ممکنہ تباہی کے بعد خطے کا موسم اچانک بدل گیا اور ایران و عراق میں درجہ حرارت میں پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی واقع ہوئی۔

اس سنسنی خیز نظریے کو اس وقت مزید تقویت ملی، جب امریکی مبصر ٹکر کارلسن نے نومبر 2025 میں موسمیاتی انجینئرنگ کے ماہر ڈین وِگنگٹن کے ساتھ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔

وِگنگٹن، جو طویل عرصے سے جیو انجینئرنگ کے ناقد رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ امریکہ نائن الیون کے بعد سے بڑے طوفانوں اور موسمی پیٹرنز کو موڑنے کی ٹیکنالوجی پر بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کرنا بڑا چیلنج بن گیا، چھ ماہ کا وقت طلب

انہوں نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے آپریشن پوپائے کا ذکر کیا، جو 1967 سے 1972 کے دوران ویتنام جنگ میں استعمال کیا گیا تھا۔

اس خفیہ مشن کے تحت سلور آئوڈائڈ کا استعمال کر کے مون سون کے سیزن کو طول دیا گیا تھا تاکہ دشمن کی سپلائی لائنز کو کیچڑ میں دھنسا کر ناکارہ بنایا جا سکے۔

اگرچہ بہت سے سائنسی ماہرین ان دعوؤں کو محض ایک اتفاق یا قدرتی تبدیلی قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں، لیکن ایران میں زمین پر موجود حقائق کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔

ایران، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین خشک سالی کی زد میں تھا اور جہاں پانی کے بحران نے سنگین صورتحال اختیار کر لی تھی، وہاں اچانک اتنی بڑی مقدار میں بارش اور برف باری کا ہونا حیران کن ہے۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ایران کی اپنی کلاؤڈ سیڈنگ مہم کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جو وزارت توانائی کی جانب سے مئی 2026 تک جاری رکھنے کا منصوبہ ہے، تاہم امریکی موسمیاتی ہتھیاروں کی تباہی کا نظریہ عوامی سطح پر زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ موسم کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، تو یہ عالمی قوانین کی ایک نئی اور خطرناک خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔