ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کم کردی، وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے، ٹرمپ

امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایران غیر مشروط ہتھیار ڈال دے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکی فوج نے ایک ہفتے کے دوران توقع سے کہیں زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے چوالیس بحری جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں جبکہ ایران کی فضائیہ کے تمام طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بڑی تعداد میں میزائل صلاحیت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے میزائلوں کی فائرنگ میں نمایاں کمی آ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ذخائر اور لانچنگ نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میزائل بنانے والے کارخانوں اور ڈرون تیار کرنے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ایران کی عسکری صلاحیت بہت کم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا ایران کے تیس سے زائد بحری جہاز ڈبونے کا دعویٰ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے مختلف حلقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کو ان مقامات پر نقصان پہنچایا گیا ہے، جہاں اسے سب سے زیادہ تکلیف ہو سکتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک ضروری ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران یا تو ہتھیار ڈال دے یا پھر اس کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب جنگ کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں بہت کم میزائل اور ڈرون استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے تقریباً ستر فیصد راکٹ لانچر تباہ کر دیئے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس جنگ کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہتا اور اس حوالے سے زمینی فوج بھیجنے کے بارے میں فی الحال کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












