خارک جزیرے پر حملہ ہوا تو عالمی تیل منڈی میں شدید بحران پیدا ہو گا، پاسداران انقلاب

ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارک جزیرے پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں شدید خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر امیرالبحر علی رضا تنگسیری نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارک جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں اس سے بھی زیادہ شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی قیمتوں پر اپنے اثرات ثابت کر دیئے ہیں۔
ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے تیل یا توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکہ سے منسلک تمام توانائی تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں، مغربی اتحادیوں کو سخت پیغام، چین سے بھی مدد کی اپیل
خارک جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً تیس کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایران کی تقریباً نوے فیصد خام تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جزیرے کے گرد کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر فوری طور پر محسوس کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران خارک جزیرے پر موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











