منگل، 14-اپریل،2026
منگل 1447/10/26هـ (14-04-2026م)

خلا میں بالادستی کا خواب، امریکہ کا بغیر ایندھن چلنے والے جاسوسی سیٹلائٹس تیار کرنے کا فیصلہ

14 اپریل, 2026 13:29

امریکی دفاعی تحقیقی ادارے نے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد زمین کے انتہائی قریب ترین مدار میں مستقل جاسوسی سیٹلائٹس تعینات کرنا ہے۔

واشنگٹن نے زمین کے نچلے ترین مدار پر اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لیے ایک انتہائی خفیہ اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا ہے۔

امریکی دفاعی ادارے ڈارپا نے کیسٹر نامی کوڈ کے تحت ایک مقابلے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسے انجن تیار کرنا ہے، جو خلا میں موجود آکسیجن اور بخارات کو بطور ایندھن استعمال کر سکیں۔

اس وقت زیادہ تر سیٹلائٹس زینون نامی مہنگی گیس استعمال کرتے ہیں، جس کے ختم ہوتے ہی کروڑوں ڈالر مالیت کا سیٹلائٹ ناکارہ ہو کر گر جاتا ہے۔

امریکہ اب اس روایت کو توڑنا چاہتا ہے اور ایسے سیٹلائٹس بنانا چاہتا ہے، جو خلا میں موجود باقی ماندہ فضا سے ہی ایندھن حاصل کر کے سالہا سال تک گردش کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں چار حاضر سروس اسرائیلی فوجی گرفتار

جاسوسی کی دنیا میں زمین کا نچلا مدار ایک قیمتی ہدف سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے کیمرے زمین پر موجود انسانوں کے چہروں تک کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس مدار میں موجود سیٹلائٹس کے ریڈار گھنے بادلوں اور دشمن کے چھپائے گئے جنگی ساز و سامان کو بھی آسانی سے پکڑ سکتے ہیں۔

اب تک اس مدار میں سیٹلائٹ رکھنا اس لیے مشکل تھا کیونکہ فضا کی رگڑ انہیں بہت جلد نیچے گرا دیتی تھی، لیکن اگر امریکہ ایسا انجن بنانے میں کامیاب ہو گیا، جو اسی ہوا کو ایندھن بنا لے، تو واشنگٹن کی جاسوسی کی صلاحیتیں ناقابل تسخیر ہو جائیں گی۔ یہ منصوبہ دنیا بھر میں انٹیلی جنس جمع کرنے کے طریقے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔