پولش رکن پارلیمنٹ نے اسرائیلی پرچم کو نازی علامت سے بدل دیا، صیہونی رجیم پر سخت تنقید

پولینڈ کے ایک ممتاز رکن پارلیمنٹ نے اسرائیلی پرچم کی ہیئت تبدیل کر کے اسے نازی جرمنی کے نشان سے تشبیہ دیتے ہوئے غزہ، لبنان اور ایران میں اسرائیلی جنگی جرائم کی شدید مذمت کی ہے۔
پولینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن کونراڈ برکووچ نے پارلیمانی اجلاس کے دوران ایک تبدیل شدہ اسرائیلی پرچم لہرا کر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر غزہ، لبنان اور ایران میں نسل کشی کے سنگین الزامات عائد کیے اور اسرائیلی ریاست کا موازنہ نازی جرمنی سے کیا۔
رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ہماری آنکھوں کے سامنے انتہائی بے رحمی سے نسل کشی کر رہا ہے اور اس کا موجودہ طرز عمل سن 1933 سے 1945کے جرمنی جیسا ہے، اس لیے اس کا پرچم بھی ویسا ہی نظر آنا چاہیے۔
کونراڈ برکووچ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے ممنوعہ سفید فاسفورس بموں کے استعمال کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بم ہوا سے آکسیجن جذب کر لیتے ہیں، جس سے لوگ دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نے دوران مذاکرات لبنان کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کردیا
انہوں نے بتایا کہ فاسفورس کا دھواں پھیپھڑوں میں داخل ہو کر انہیں اندر سے جلا دیتا ہے اور اگر کوئی بچہ خوش قسمتی سے سانس لینے میں کامیاب ہو جائے تو یہ کیمیکل اس کے گالوں اور ہاتھوں سے چمٹ کر ہڈیوں تک گوشت کو جلا دیتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے اس وحشیانہ عمل کو معصوم بچوں کو زندہ جلانے اور بھوکا مارنے کے مترادف قرار دیا۔
یہ تنقید صرف پولینڈ تک محدود نہیں ہے، بلکہ پورے یورپ میں اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنایا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں چانسلر ریچل ریوز نے اسرائیل اور ایران کے درمیان امریکی قیادت میں ہونے والی جنگ کو حماقت قرار دیتے ہوئے اس کے عالمی معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسی طرح اٹلی نے بھی اسرائیل کے ساتھ اپنا دیرینہ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا ہے، جو کہ روم کی جانب سے غزہ اور لبنان میں جاری جارحیت کے خلاف ایک بڑا سفارتی ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.







