سلیکون ویلی کا اسرائیل سے خفیہ معاہدہ، ٹیکنالوجی کمپنیاں فلسطینیوں کیخلاف جنگ میں شریک
سلیکون ویلی کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں خصوصاً گوگل اور ایمازون کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کردہ کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے ذریعے فلسطینیوں پر بمباری میں مدد فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سلیکون ویلی کی ٹیکنالوجی دیو گوگل کے اندرونی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کے وکلاء نے 2021 میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ ان کی کلاؤڈ سروسز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
اس واضح وارننگ کے باوجود گوگل کی اعلیٰ انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ پراجیکٹ نمبس نامی ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے، جو سات سال کے لیے ہے۔ اس معاہدے کا سب سے بڑا حصہ دار اسرائیلی وزارت دفاع ہے جو پانچ سو پچیس ملین ڈالر کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔
عوامی سطح پر گوگل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ پراجیکٹ نمبس کا کوئی فوجی پہلو ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انفراسٹرکچر براہ راست اسرائیل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹارگٹڈ سسٹمز لیونڈر اور گوسپل کو طاقت فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : واٹس ایپ ڈیٹا محفوظ نہیں، گوگل اور ایپل کے سرورز پر کھلے عام موجود ہے، ٹیلی گرام کے بانی کا دعویٰ
یہ نظام اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس یونٹ 8200 نے تیار کیے ہیں، جن کی مدد سے اب تک 37 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ممکنہ ہدف کے طور پر نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
انسانی آپریٹرز صرف 20 سیکنڈ میں ان نظاموں کے ذریعے حملے کی تصدیق کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
اس معاہدے کے تحت گوگل اور ایمازون اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں بشمول رافیل اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو بھی خدمات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
رافیل کمپنی وہ اسپائک میزائل اور اسپائس گائیڈنس کٹس بناتی ہے، جو عام بموں کو اسمارٹ بموں میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جو غزہ کے پناہ گزین کیمپوں پر بمباری میں استعمال ہوئے جنہیں اقوام متحدہ نے ناقابل معافی قرار دیا ہے۔
اب صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ نجی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر فوجی ہدف بن گیا ہے۔ مارچ 2026 میں ایران کے شاہد ڈرونز نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنایا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ اب کارپوریٹ سرور فارمز اور اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









