بدھ، 15-اپریل،2026
بدھ 1447/10/27هـ (15-04-2026م)

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جعلی مقبولیت کے پیچھے کروڑوں ڈالر کا کھیل بے نقاب

15 اپریل, 2026 12:35

ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کی میگا مہم کے پیچھے کوئی عوامی لہر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ معاوضہ دے کر چلایا جانے والا نیٹ ورک کام کر رہا ہے، جس میں ہر پوسٹ اور مہم کے لیے بھاری ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میگا مہم کی سابقہ بااثر رکن ایشلے سینٹ کلیئر نے اس بات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ جسے دنیا ٹرمپ کی مقبولیت کی عوامی تحریک سمجھ رہی ہے، وہ دراصل ایک منظم اور معاوضہ دے کر چلائی جانے والی ڈیجیٹل پروپیگنڈا مشین ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی خودکار یا عوامی جذبہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظام ہے، جہاں ہر پوسٹ کے بدلے پیسہ دیا جاتا ہے۔

بڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو براہ راست سیاسی آپریٹو کی جانب سے ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہوں نے کیا بولنا ہے اور کس بیانیے کو فروغ دینا ہے۔

ایشلے کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک خفیہ گروپ چیٹس اور کنسلٹنگ فرمز کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جہاں مخصوص اسکرپٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سابق امریکی صدر ولسن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں مماثلت، کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چھوٹے سوشل میڈیا صارفین ان بڑے اکاؤنٹس کی پیروی کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عوامی رائے ہے، جبکہ درحقیقت وہ ایک پیڈ مہم کا حصہ بن رہے ہوتے ہیں۔

اس نظام میں موجود قانونی سقم کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ادائیگیوں کو اس طرح چھپایا جاتا ہے کہ وہ عام لوگوں کی نظر میں نہ آسکیں۔

اس انکشاف نے ٹرمپ کی اس مقبولیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کا دعویٰ وہ اپنے جلسوں اور سوشل میڈیا پر کرتے رہے ہیں۔

ایشلے سینٹ کلیئر کا کہنا ہے کہ جس چیز کو آرگینک یعنی قدرتی رائے عامہ قرار دیا جاتا رہا، وہ دراصل ایک مصنوعی طریقے سے تیار کیا گیا ماحول تھا۔

یہ انکشافات امریکی سیاست میں ڈیجیٹل اثر و رسوخ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور رائے عامہ کو منظم طریقے سے تبدیل کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔