امریکی میزائلوں کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے امریکہ کے جدید میزائلوں کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہو گئی ہے، جس نے ایشیا اور یورپ میں امریکی دفاعی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی فوجی کمانڈرز نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے امریکہ کے جدید ترین اور درست ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 سے اب تک امریکہ مشرق وسطیٰ میں تقریباً گیارہ سو لانگ رینج اسٹیلتھ کروز میزائل فائر کر چکا ہے، جو دراصل چین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس کتنے میزائل ہیں؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے
ان ذخائر میں ٹوما ہاک کروز میزائل، پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل اور زمین سے فائر کیے جانے والے دیگر جدید میزائل شامل ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے امریکی فوج ایشیا اور یورپ میں قائم اپنے اڈوں سے اسلحہ منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
پینٹاگون کے حکام اور کانگریس کے اراکین نے خبردار کیا ہے کہ ہتھیاروں کی اس بڑے پیمانے پر منتقلی سے دیگر خطوں میں امریکی دفاعی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ امریکی دفاعی صنعت کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ان جدید میزائلوں کی پیداوار کو فوری طور پر بڑھا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان خالی ہونے والے ذخائر کو دوبارہ مکمل طور پر بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











