عالمی معیشت کے آٹھ کمزور سمندری ‘چوک پوائنٹس’

عالمی تجارت اور توانائی کی منتقلی کا دارومدار سمندر کے صرف آٹھ تنگ راستوں پر ہے، جن میں سے کسی ایک کی بھی بندش پوری دنیا کے معاشی پہیے کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عالمی معیشت کا ڈھانچہ چند ایسے سمندری راستوں پر کھڑا ہے، جنہیں چوک پوائنٹس کہا جاتا ہے۔ سال 2026 میں یہ راستے دنیا کے سب سے زیادہ نازک مقامات بن چکے ہیں۔
ان میں سرفہرست آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کے کل تیل کی کھپت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران کا اس راستے پر کنٹرول اسے عالمی توانائی کی منڈیوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح آبنائے ملاکا ہے، جو بحر ہند اور بحیرہ جنوبی چین کو جوڑتی ہے، اور چین کی خام تیل کی پچھتر فیصد درآمدات اسی راستے پر منحصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کا مستقبل میں پانی پر جنگوں کا سنگین انتباہ
دیگر اہم راستوں میں باب المندب شامل ہے، جو یمن میں حوثی کارروائیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل چکر کاٹنا پڑ رہا ہے۔
نہر پانامہ میں خشک سالی کی وجہ سے ٹریفک میں چالیس فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ آبنائے باسفورس اور در دانیال پر ترکیہ کا کنٹرول اسے یوریشیا کی تجارت میں کلیدی اہمیت دیتا ہے۔
ان راستوں کی جغرافیائی اہمیت اور وہاں جاری سیاسی تنازعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی تجارت کتنی غیر محفوظ ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی راستہ مستقل طور پر بند ہوتا ہے تو عالمی افراط زر اور سپلائی چین کا ایسا بحران پیدا ہوگا، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












