ایران جنگ کے باعث گندھک کی شدید قلت، دنیا بھر میں کھاد اور ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی سطح پر گندھک (سلفر) کی سپلائی کو مفلوج کر دیا ہے، جس سے خوراک، کان کنی اور ادویات سازی کی صنعتیں شدید بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے سے عالمی تجارتی منڈیوں میں ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ گندھک، جو کہ صنعتی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، کی سپلائی زنجیر مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔
گندھک بنیادی طور پر تیل اور گیس کی ریفائننگ کے دوران حاصل ہوتی ہے اور اس سے سلفیورک ایسڈ بنایا جاتا ہے، جو کھاد کی تیاری، دھاتوں کے اخراج اور ادویات سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
دنیا کی نصف سے زائد گندھک مشرق وسطیٰ سے برآمد کی جاتی ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث یہ سپلائی راتوں رات رک گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف زمینی جنگ امریکی سلطنت کے خاتمے کا آغاز ہوگی، سابق امریکی کرنل
چین، بھارت، انڈونیشیا اور امریکہ جیسے بڑے ممالک اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ترکی نے اپنی ضرورت کے پیش نظر گندھک کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے جبکہ بھارت بھی اسی نقش قدم پر چلنے کا سوچ رہا ہے۔
مئی سے چین بھی سلفیورک ایسڈ کی برآمد روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اپنی مقامی صنعتوں کو بچایا جا سکے۔ اس قلت کے براہ راست اثرات زراعت پر پڑ رہے ہیں، جہاں کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ افریقہ میں تانبے کی کانیں بند ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ انڈونیشیا میں نکل کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے
۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گندھک کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور مشرق وسطیٰ کی برآمدات کے بغیر دنیا بھر کی صنعتیں چند ہی ہفتوں میں ٹھپ ہو سکتی ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












