ایرانی تیل کی صنعت ٹرمپ کی توقعات سے زیادہ مضبوط ہیں، امریکی تحقیقی ادارے کا انکشاف

کولمبیا یونیورسٹی کی رپورٹ نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ ناکہ بندی سے ایرانی تیل کے کنویں تباہ ہو جائیں گے، رپورٹ کے مطابق ایران کا انفراسٹرکچر ناکہ بندی ختم ہونے کے چند ماہ بعد ہی مکمل بحالی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی پیداوار کو مستقل طور پر مفلوج کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے تیل کے ذخائر، خاص طور پر خوزستان کے کاربونیٹ ذخائر، فنی طور پر اس طرح کے ہیں کہ انہیں کسی بھی وقت بند اور دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کا ایرانی امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار، حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی
صدر ٹرمپ نے پیش گوئی کی تھی کہ ناکہ بندی کی وجہ سے تیل کے کنویں پھٹ جائیں گے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فیلڈز میں عارضی بندش سے قدرتی دباؤ بڑھتا ہے، جو دوبارہ کام شروع کرنے پر پیداوار میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی جائے تو ایران فوری طور پر اپنی 70 فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر سکتا ہے اور چند ماہ کے اندر ہی جنگ سے پہلے والی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔
ایران اس سے قبل 2016 کے جوہری معاہدے، 2018 میں امریکی انخلا اور کووڈ کے دوران بھی ایسی ہی صورتحال سے کامیابی سے نمٹ چکا ہے۔ اس وقت ایران کی پیداوار 3.06 ملین بیرل یومیہ پر مستحکم ہے اور وہ متبادل راستوں کی تلاش میں ہے۔
اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پیش گوئیاں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











