اسرائیل میں فوجیوں کا بحران، سابق وزیرِ اعظم نے مذہبی جذبات کو ابھارنا شروع کر دیا

اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے فوج میں افرادی قوت کی شدید کمی کا اعتراف کرتے ہوئے فوجی سروس کو مذہبی فریضہ قرار دے دیا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے اپنے حالیہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت افرادی قوت کی شدید قلت کا شکار ہے اور اسے فوج کے لیے مزید سپاہیوں کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے فوجی سروس کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے کہا کہ تورات کی تعلیمات کے مطابق اپنی قوم کے لیے لڑنا یہودیت کا نچوڑ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے معاشی اثرات، 10 لاکھ اسرائیلی روزگار سے محروم
نفتالی بینیٹ کے مطابق کوئی بھی اسرائیلی یہودی اس وقت تک مکمل نہیں کہلا سکتا، جب تک وہ اپنے ملک کے لیے فوجی خدمات انجام نہ دے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیل متعدد محاذوں پر جنگ میں مصروف ہے اور اس کی باقاعدہ فوج اور ریزرو فورسز پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بینیٹ کا مذہبی حوالہ دے کر نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی سماج میں فوج میں شمولیت کے حوالے سے ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے اور حکومت کو افرادی قوت کے بحران پر قابو پانے کے لیے اب مذہبی کارڈ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










