حکومت کا پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کمی کا اعتراف

حالیہ علاقائی جنگوں اور سرحدوں پر کشیدگی کے باعث پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جس کا اعتراف وزیراعظم آفس کی جانب سے کیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز میں رواں مالی سال کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی کا اعتراف کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔
اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے علاوہ پاک بھارت اور پاک افغانستان سرحدوں پر جاری کشیدگی کو قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگانے سے کتراتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایم کیو ایم کا کے الیکٹرک کیخلاف اعلان جنگ، وزیر اعظم سے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ
گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں چار ارب اٹھائیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال نے ان اعداد و شمار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کی جانب سے منافع کی بیرون ملک ترسیلات میں بھی کمی آئی ہے۔ گزشتہ مالی سال ایک ارب انہتر کروڑ ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے تھے، جبکہ رواں مالی سال جنوری تک ستتر کروڑ پندرہ لاکھ ڈالر کی ترسیلات بیرون ملک بھجوائی گئیں۔
ان میں سب سے زیادہ توانائی کے شعبے سے چالیس کروڑ ڈالر اور مالیاتی خدمات کے شعبے سے سینتیس کروڑ ڈالر باہر گئے۔
حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں ہونے والے اس بڑے خسارے کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی اور معیشت دوبارہ استحکام کی جانب بڑھے گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











