ایران نے دوران جنگ مشرق وسطیٰ میں 228 امریکی تنصیبات تباہ کیں، واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک چونکا دینے والی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے امریکی فوجی تنصیبات کو سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ ایران نے 15 امریکی اڈوں پر 228 ڈھانچوں اور حساس آلات کو نشانہ بنایا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔
اخبار نے ایران کی جانب سے جاری کردہ ایک سو سے زائد سیٹلائٹ تصاویر کا یورپی یونین کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے موازنہ کیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ 28 فروری سے اب تک 15 امریکی فوجی مقامات پر 228 ڈھانچے اور فوجی ساز و سامان تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت میں موجود تین اڈوں کو پہنچا۔
بتایا گیا ہے کہ کویت اور بحرین کو اس لیے زیادہ نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان ممالک نے اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائیوں اور میزائل سسٹم کے استعمال کی اجازت دی تھی۔
نشانہ بنائے گئے اہداف میں طیاروں کے ہینگرز، فوجی بیرکیں، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم، ریڈار، مواصلاتی آلات اور سیٹلائٹ ڈشز شامل ہیں۔
نقصان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو بحرین سے فلوریڈا منتقل کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے دوران عراق میں امریکی تنصیبات پر 600 سے زائد حملے ہوئے، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

ریٹائرڈ میرین کرنل مارک کینسیئن نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ایرانی حملے انتہائی درست تھے اور سیٹلائٹ تصاویر میں کوئی ایسا گڑھا نہیں ملا جو ہدف سے دور گرا ہو، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی نشانہ بنانے کی صلاحیت غیر معمولی حد تک بہتر ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھا اور جدید ڈرون جنگ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہا۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کا بڑا حصہ ان حملوں کو روکنے میں خرچ کر دیا، جس میں 53 فیصد تھاد میزائل اور تینتالیس فیصد پیٹریاٹ میزائل شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ دو بڑے تجارتی سیٹلائٹ فراہم کنندگان نے امریکی حکومت کی درخواست پر خطے کی تصاویر جاری کرنے پر پابندی لگا دی تھی تاکہ نقصان کی اصل تصویر دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔ تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ نے اعلیٰ معیار کی تصاویر جاری کیں، جن کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق کر لی گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ثابت کر دیا کہ ایران اب امریکی فضائی دفاعی نظام میں شگاف ڈالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورتحال نے امریکی فوجی منصوبہ سازوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب مشرق وسطیٰ میں مستقل بنیادوں پر فوج رکھنا محفوظ ہے یا نہیں۔
دو اہم عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی افواج شاید اب کبھی بھی ان اڈوں پر اتنی بڑی تعداد میں واپس نہ آئیں، جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک بڑا تزویراتی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












