ایران جنگ نے نیٹو کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی!

نیٹو اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے، ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر صدر ٹرمپ کے سخت رویے نے یورپی اتحادیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ امریکہ سے الگ اپنی سیکیورٹی کا خود انتظام کریں۔
نیٹو، جو کبھی سوویت یونین کے خلاف ایک مضبوط دیوار تھا، اب اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس بحران کا نقطہ آغاز ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے بنے، جس میں یورپ نے شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس انکار کو ذاتی حملہ تصور کیا اور یورپی ممالک کو بزدل قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے دفاعی بجٹ میں 5 فیصد اضافہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز میں مدد نہ کی، تو امریکہ نیٹو چھوڑ دے گا۔
وائٹ ہاؤس نے اسپین اور برطانیہ جیسے ممالک کو سزا دینے کے لیے ایک فہرست بھی تیار کی ہے، کیونکہ انہوں نے امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی سیاست، دنیا پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے
اس دباؤ کے نتیجے میں یورپ کے اندر ایک نئی سوچ نے جنم لیا ہے، جسے ’یورپی نیٹو‘ کہا جا رہا ہے۔ جرمنی، فرانس، فن لینڈ اور پولینڈ جیسے ممالک اب ایک ایسے ڈھانچے پر غور کر رہے ہیں، جہاں امریکی کمانڈ کے بجائے یورپی قیادت ہو اور وہ اپنی حفاظت کے لیے امریکی فوج کے محتاج نہ رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو کو پہنچنے والا یہ نقصان اب ناقابل تلافی ہو چکا ہے، کیونکہ امریکی سیکیورٹی کی ضمانت اب ناقابل اعتبار ہو گئی ہے۔
روسی ترجمان ماریہ زخارووا کا یہ بیان کہ امریکی اڈے تحفظ کے بجائے جوابی حملوں کا ہدف بن چکے ہیں، یورپی عوام میں مزید بے چینی پھیلا رہا ہے۔
اگر نیٹو ٹوٹتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جہاں چھوٹے اور علاقائی اتحاد زیادہ طاقتور ہو جائیں گے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












