ہفتہ، 9-مئی،2026
ہفتہ 1447/11/22هـ (09-05-2026م)

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی سیاست، دنیا پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے

06 مئی, 2026 09:54

خلیج میں جاری جنگ بندی اپنی عمر پوری کر رہی ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ اسے کسی بھی وقت ختم کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بن چکا ہے، جہاں ایک غلط فہمی پوری دنیا کو ایک بڑی جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔

المعیادین کے تجزیے کے مطابق خلیج میں قائم جنگ بندی کو چار ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن اب یہ کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کی وجہ دونوں ممالک کی اپنی اپنی شرائط پر سختی سے قائم رہنا ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مکمل طور پر آزاد ہو، جبکہ ایران اب اسے ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا بدلہ لے سکے اور مالی فوائد حاصل کر سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کر دیا ہے کہ اب پرانی صورتحال (اسٹیٹس کو) پر واپسی ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کی حفاظت کیلئے اقوام متحدہ میں قرارداد کا مسودہ تیار

آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے، جس سے دنیا بھر میں خوراک کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر ٹرمپ، جو ایک آسان فتح کی امید پر جنگ میں کودے تھے، اب خود کو ایک تزویراتی جال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے دکھایا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، چاہے اسے اپنے ہی شہریوں پر تشدد کیوں نہ کرنا پڑے۔

متحدہ عرب امارات اس وقت ایران کا بنیادی ہدف دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے اس نے اسرائیل سے ’آئرن ڈوم‘ جیسے دفاعی نظام حاصل کر لیے ہیں۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر کسی بھی فریق نے رعایت نہ دی تو خطہ ایک ایسی جنگ کی طرف پھسل جائے گا، جس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔