جمعرات، 7-مئی،2026
جمعرات 1447/11/20هـ (07-05-2026م)

ٹرمپ کے ٹیرف کی ناکامی اور معاشی خودکشی، حکومتی خسارے میں اربوں کا اضافہ ہوگیا

07 مئی, 2026 09:39

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کیخلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکی حکومت اگلے ہفتے سے کمپنیوں کو 174 ارب ڈالر کی واپسی شروع کر رہی ہے، جس نے ملکی معیشت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازعہ ‘باہمی محصولات’ (Reciprocal Tariffs) کی پالیسی امریکی سپریم کورٹ کے ہاتھوں غیر قانونی قرار پانے کے بعد اب حکومت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

اگلے ہفتے سے حکومت ان کمپنیوں کو 166 ارب ڈالر اصل اور سود ملا کر مجموعی طور پر 174 ارب ڈالر واپس کرنا شروع کرے گی، جنہوں نے یہ ٹیرف ادا کیے تھے۔

اس فیصلے کے سب سے بڑے فاتح وال مارٹ (10 ارب ڈالر)، ایپل (تقریباً 3 ارب ڈالر) اور فورڈ (ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر) جیسی بڑی کارپوریشنز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی تیل کی صنعت ٹرمپ کی توقعات سے زیادہ مضبوط ہیں، امریکی تحقیقی ادارے کا انکشاف

حیرت انگیز اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ان محصولات کا بوجھ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں عام امریکی صارفین نے اٹھایا تھا، لیکن انہیں اس ریفنڈ میں سے ایک دھیلا بھی نہیں ملے گا، جس کی وجہ سے کئی ریٹیلرز کے خلاف عوامی مقدمات شروع ہو چکے ہیں۔

نیویارک فیڈرل ریزرو کے مطابق، ان محصولات کی 90 فیصد قیمت امریکی کاروبار اور خاندانوں نے ادا کی تھی۔ اب حکومت نہ صرف یہ ریونیو کھو دے گی بلکہ اس خطیر رقم کی واپسی سے ملک کا بجٹ خسارہ اور قومی قرضہ نئی بلندیوں کو چھو لے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس شکست کے باوجود ہار نہیں مانی اور فوری طور پر نئے ٹیرف نافذ کر دیئے ہیں، جنہیں 24 ریاستوں نے عدالتوں میں چیلنج کر دیا ہے۔

معاشی ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ دانستہ طور پر امریکی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں؟ پہلے غیر قانونی ٹیرف کے ذریعے داخلی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا اور اب ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر عالمی توانائی کی منڈیوں میں ‘کیمیکازے’ حملہ کر دیا گیا ہے، جس سے امریکہ کے عالمی معاشی مستقبل پر سیاہ بادل چھا گئے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔