متحدہ عرب امارات کا امریکہ اور اسرائیل پر ہارا ہوا جوا

متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ قریبی اتحاد اور ایران سے دوری کی پالیسی اسے ایک بڑی تزویراتی شکست کی جانب لے گئی ہے، جہاں ایران نے امارات کی اہم بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعے میں امریکہ اور اسرائیل پر جو جوا کھیلا تھا، وہ اب ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا دائرہ بڑھاتے ہوئے امارات کی اہم بندرگاہوں خورفکان اور فجیرہ کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
فجیرہ پر ہونے والے حالیہ حملوں کی بڑی وجہ وہاں امریکی اور اسرائیلی افواج کی موجودگی اور دوہرے استعمال کے سامان کی ترسیل بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسحاق ڈار کی متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت
یہ ناکہ بندی امارات کے لیے اس لیے بھی تباہ کن ہے کیونکہ جب دبئی کی جبل علی بندرگاہ تک رسائی ناممکن ہو جائے تو خورفکان وہ آخری گہرے پانی کی بندرگاہ تھی، جہاں سے ضروری خوراک اور ادویات کی درآمد ممکن تھی۔ اب اس راستے کی بندش کا مطلب ہے کہ امارات کے پاس کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں رہا۔
امارات نے اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے ‘حبشان فجیرہ پائپ لائن’ بنائی تھی جو روزانہ ایک اعشاریہ آٹھ ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر باہر بھیج سکتی تھی، لیکن بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے اس اسٹریٹجک فائدے کو بھی ختم کر دیا ہے۔
سیاسی طور پر بھی امارات نے خود کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ یہ واحد خلیجی ریاست ہے، جس نے جنگ شروع کرنے پر ٹرمپ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی۔
اوپیک سے علیحدگی نے اسے دیگر عرب ممالک سے بھی دور کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امارات میں اسرائیل کا ‘آئرن ڈوم’ سسٹم خفیہ طور پر تعینات ہے، جسے اسرائیلی فوجی چلا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایرانی حملوں نے اماراتی تنصیبات کو مفلوج کر دیا ہے۔
تہران کے ساتھ بات چیت میں ناکامی اور اسرائیل پر حد سے زیادہ انحصار نے امارات کو ایک ایسے جال میں پھنسا دیا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












