یورپی یونین کی چینی ٹیکنالوجی پر پابندی سے معاشی خودکشی

ایک نئی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے چینی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کی، تو اسے آئندہ پانچ سالوں میں 471 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یورپ ایک بار پھر ایک مہنگے جال میں پھنسنے جا رہا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے مجوزہ سائبر سیکیورٹی ایکٹ کے تحت اٹھارہ اہم شعبوں سے چینی سپلائرز کو نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کی قیمت 431 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ہارڈ ویئر کی تبدیلی پر 171 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، جبکہ سپلائی چین میں خلل اور قانونی جنگ کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر جرمنی ہوگا، جسے اکیلے 200 ارب ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : سبز ٹیکنالوجی میں چین کا عالمی غلبہ اور مغربی ممالک کی چیخیں
تجزئیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے، جیسے یورپ نے سستی روسی گیس سے ناطہ توڑ کر خود کو توانائی کے بحران میں ڈالا تھا۔ اب واشنگٹن کے دباؤ پر چینی ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانا یورپ کے لیے ایک اور بڑا زخم ثابت ہوگا۔
اس پابندی سے نہ صرف ڈیجیٹل اپ گریڈ سست ہوگا بلکہ سبز توانائی کے منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہوں گے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق چینی سپلائرز کے ساتھ تعاون کرنا یورپ کے مفاد میں ہے، بجائے اس کے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر خود کو معاشی نقصان پہنچائے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












