جمعرات، 14-مئی،2026
جمعرات 1447/11/27هـ (14-05-2026م)

ایران جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی عسکری صف بندی اور پاکستان کا کلیدی کردار

14 مئی, 2026 12:41

بھارتی سفارت کار کے مطابق، سعودی عرب اور پاکستان کا معاہدہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کو پر کرنے کی ایک کوشش ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ستمبر 2025 میں دستخط ہونے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوج کے تازہ دم دستوں کی سعودی عرب آمد نے عالمی مبصرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ دستے مشرقی صوبے کے شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچے۔ بھارت کے معروف سفارت کار تلمیذ احمد، جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سفیر رہ چکے ہیں، اس معاہدے کو ایک تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی تعلقات سرد جنگ کے دور سے چلے آرہے ہیں اور جب بھی سعودی عرب کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑی، پاکستان نے ہمیشہ اپنا عسکری تعاون فراہم کیا۔ ماضی میں بھی بیس سے پچیس ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں قیام پذیر رہے ہیں جو اردن، عراق اور یمن کی سرحدوں پر مامور تھے۔

تلمیذ احمد کے تجزیے کے مطابق، اس حالیہ معاہدے کا وقت انتہائی اہم ہے۔ جب اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تو یہ تمام خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے لیے ایک پیغام تھا کہ اسرائیل خود کو اس خطے کا چوہدری تصور کرتا ہے اور کوئی بھی ریاست محفوظ نہیں ہے۔ اس عدم تحفظ کے احساس نے خلیجی ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے نئے آپشنز تلاش کریں۔

یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کا پاکستانی قیادت کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ قطر نے جہاں امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کی کوشش کی، وہیں سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور قابلِ اعتماد دوست پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کر لیا۔

یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی سیکیورٹی کے لیے محض واشنگٹن یا اسرائیل کے تحفظ کے جھوٹے وعدوں پر انحصار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

یہ دو طرفہ معاہدہ اب ایک چار فریقی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں ترکی، مصر، اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا، جو ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی طرف پہلا قدم ہے۔

تلمیذ احمد کے مطابق، ایران اور اسرائیل کی جنگ نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ انہیں دونوں اطراف سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ لہذا، پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل یہ چار فریقی اتحاد مستقبل میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا ضامن بنے گا۔

جیسے ہی موجودہ جنگ ختم ہوگی اور جنگ بندی عمل میں آئے گی، اس گروپ میں مزید ارکان کو شامل کر کے ایک مستقل علاقائی حفاظتی حصار قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس میں پاکستان کا تجربہ کار عسکری ڈھانچہ ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔